ڈائری
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ آپ یہ مشورہ اس لئے دے رہے ہیں کہ آپ نے ابھی تک ہمارے مقصد کو نہیں سمجھا۔ ہمارا مقصد Intellectual entertainment نہیں ۔ اور نہ تجارت کرنا ہمارا مقصد ہے۔ یہ مشکل مشن ہم نے اس لئے نہیں کھڑا کیا ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے ذہنی تفریح کا سامان فراہم کریں ۔ ہمارا اصل مقصد باطل کا پردہ پھاڑنا ہے۔ دین حق کے اوپر جو گرد پڑ گئی ہے اس کو اس سے ہٹانا ہے۔ تاکہ آدمی خدا کے دین کو اس کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔ اگر آپ ہمارے مشن کی اس نوعیت کو سامنے رکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ موجودہ انداز ہی صحیح ترین انداز ہے۔ اس انداز میں تبدیلی خود مقصد میں تبدیلی کے ہم معنی ہوگی۔ ۲۹ ستمبر ۱۹۸۳ بعض علما نے لکھا ہے کہ اس شخص کی تلاوت قرآن جائز نہیں جو تجوید کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہ کرے۔ اس لئے کہ تجوید کے ساتھ تلاوت کرنا فرض ہے، جب کہ قرآن کی تلاوت مطلقاً نفل ہے۔ اس بناپر فرض کو ترک کرنا نقل کی وجہ سے جائز نہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ علم تجوید سیکھے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں خود فرماتا ہے: ورتل القرآن ترتيلا مذکورہ مسئلہ کا قرآن کی اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ترتیل اور تجوید دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔ ترتیل کے معنی ہیں شہر ٹھہر کر پڑھنا۔ اور تجوید کے معنی ہیں اصول قرأت کے مطابق مخارج اور غناء کے ساتھ پڑھنا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تجوید نہ فرض ہے اور نہ نفل۔ وہ ایک فن ہے۔ اس کو زیادہ سے زیادہ فن قرأت کہا جاسکتا ہے نہ کہ واجب یا فرض۔ ترتیل حقیقت تدبر کی ظاہری صورت ہے۔ آدمی جب کسی عبارت کو اس کے معنی پر پورا دھیان دیتے ہوئے اور غور کرتے ہوئے پڑھے تو اس سے جو انداز قرأت بنے گا اسی کا نام ترتیل ہے۔ قرآن کی تلاوت کے سلسلہ میں اصل اہمیت کی چیز تدبر و تفکر ہے نہ کہ الفاظ کی حسن ادائیگی ۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ صحابہ اور تابعین کے زمانہ تک دین سادہ اور نظری حقیقت کا نام تھا۔ اس کے بعد فنی بحث کا آغاز ہوا۔ اس لئے دین میں بے شمار اختلافات پیدا کر دیئے گئے حتی کہ شریعت کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں علماء کے درمیان اختلاف نہ پایا جاتا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader