ڈائری
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
آرتھر گورڈن (Arthur Gordon) نے لکھا ہے کہ ایک بار وہ ایک نازک صورت حال سے پریشان تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا فیصلہ کرے ۔ وہ اپنے ایک دوست سے ملا۔ اور اس کے سامنے اپنی مشکل بیان کی ۔ دوست جو بہت ذہین اور سمجھ دار تھا، اس نے چند لمحہ سوچا، اس کے بعد ایک کاغذ پر حسب ذیل ۱۰ الفاظ لکھ کر اس کی طرف بڑھا دیئے : Be bold — and mighty forces will come to your aid. جرات مند بنو ، اور زبر دست طاقتیں تمہاری مدد پر آ جائیں گی ۔ آرتھر گورڈن نے دس الفاظ کی اس نصیحت کو پکڑ لیا۔ اس نے مذکورہ معاملہ میں ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ ابتدائی مشکلوں کے بعد وہ کامیاب رہا۔ بقیہ زندگی میں بھی دوست کا یہ مشورہ اس کو بہت کام آتا رہا۔ آدمی اگر مشکل مواقع پر پست حوصلہ ہو جائے تو اس کی فطری صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اور اگر وہ حوصلہ اور جرات کے ساتھ بہادرانہ فیصلہ کرے تو اس کی تمام اندرونی صلاحیتیں ابھر آتی ہیں اور بالآخر اس کو کامیاب کر کے رہتی ہیں۔ جو مشکلات پہلے اس کو رکاوٹ نظر آ رہی تھیں، وہ اس کے لئے ترقی کا زینہ بن جاتی ہیں۔ ۲۵ جنوری ۱۹۸۳ مینڈک ہمیشہ ایک حقیر جانور سمجھا جاتا رہا ہے، اور اس کا پاؤں اور بھی زیادہ حقیر۔ موجودہ دور سے پہلے غالبا کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ مینڈک کا پاؤں کوئی کھانے کی چیز ہے۔ تاہم موجودہ زمانہ میں اس کا سائنٹفک تجزیہ کیا گیا ہے اور تجربات کے بعد تسلیم کیا گیا ہے کہ مینڈک کا پاؤں ایک نہایت مفید اور قیمتی غذا ہے۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں وہ نہایت مہنگے داموں پر شائقین کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اسی لئے ایک شخص نے کہا کہ یہ دریافت کرنا بڑے حوصلہ کا کام تھا کہ مینڈک کے پاؤں کھانے کی چیز ہیں: It must have taken a lot of courage to discover that frog legs are edible.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader