ڈائری
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا فراہی بلا شبہ مخلص تھے۔ مگر روایات کو نظر انداز کر کے تفسیر کرنے کا مزاج ان پر اتنا زیادہ چھایا کہ وہ سورہ فیل کی اس انوکھی تفسیر تک پہنچ گئے جو تمام علماء اور مفسرین کے خلاف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخلص ہو کر بھی آدمی بڑی بڑی غلطیاں کر سکتا ہے۔ ۴ اکتوبر ۱۹۸۳ جرمن فلسفی کانٹ (۱۸۰۴ - ۱۷۲۴) یورپ کا مشہور ترین مفکر ہے۔ وہ ایک غریب گھر میں پیدا ہوا۔ اس کے سرپرست اس کا تعلیمی خرچ اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ ۱۷۵۶ء سے ۱۷۵۵ء تک اُس کو فیملی ٹیوٹر کے طور پر کام کرنا پڑا۔ اس طرح ذاتی محنت سے اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد بھی اس کو صرف ایک معمولی ٹیچر کی جگہ ملی۔ ۱۷۷۰ء کے بعد کے زمانہ میں اس کی تحریر میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں۔ اس وقت جرمن یونیورسٹیوں میں لیبنر (G.W. Leibniz) کے افکار چھائے ہوتے تھے۔ کانٹ نے لیبنر پر سخت تنقیدیں کیں۔ یہ تنقیدیں چونکہ دلائل کے اعتبار سے بہت طاقت ور تھیں، کانٹ بہت جلد لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اور پھر اس کے لئے اعلیٰ ترقیات کے دروازے کھل گئے۔ ۵ اکتوبر ۱۹۸۳ چین کے ایک ارب باشندے چینی زبان بولتے ہیں۔ جب کہ انگریزی زبان بولنے والوں کی تعداد ساری دنیا میں ۷۰ کروڑ ہے۔ اس لحاظ سے بظاہر چینی زبان بولنے والے زیادہ ہیں اور انگریزی بولنے کم، مگر دوزبانوں کی اہمیت سمجھنے کے لئے یہ تقابل صحیح نہیں۔ کیوں کہ چینی زبان صرف چین میں بولی جاتی ہے۔ جب کہ انگریزی زبان کے بولنے اور جاننے والے ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انگریزی زبان حقیقن معنوں میں ایک بین اقوامی زبان ہے اور چینی صرف ایک لکی زبان۔ ۶ اکتوبر ۱۹۸۳ موجودہ زمانہ میں شہید کا لفظ قتیل کے معنی میں رواج پا گیا ہے۔ حالاں کہ یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں۔ قرآن میں ہے کہ : اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں (الحدید ۱۹) اس آیت میں ایسے لوگوں کو شہید کہا گیا ہے جنھوں نے اللہ اور رسول کا مومن ہونے کا ثبوت دیا۔ یہاں لڑ کر جان دینے کا کوئی ذکر نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader