ڈائری
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
مزید یہ کہ کسی قتل ہونے والے کو شہید کہنا بذات خود بھی اسلام میں منع ہے۔ متعدد حدیثوں میں اس کی صراحت آئی ہے۔ امام بخاری نے اپنی کتاب جامع صحیح میں ایک باب قائم کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: (لا یقول فلان شہید، یہ نہ کہے کہ فلاں شہید ہے)، اس ترجمہ باب کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے اس طرح کی ہے : (لا یقول فلان شہید) ای علی سبیل القطع الا ان کان بالوحی۔ یعنی قطعیت کے ساتھ کسی کو نہ کہے کہ وہ شہید ہے، الا یہ کہ وہ وحی کی بنیاد پر ہو۔ امام بخاری نے اس باب کے تحت کئی روایتیں پیش کی ہیں۔ حافظ ابن حجر نے اس میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ شہید کا لفظ آدمی کے اخروی انجام کو بتاتا ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، پھر کسی انسان کے لئے کیسے درست ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو یہ کہنا شروع کر دے کہ فلاں آدمی شہید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کسی کے نام کے ساتھ لفظ شہید نہیں لگایا گیا ۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بدعت ہے کہ لوگ حسن البنا شہید اور سید قطب جیسے الفاظ بولتے ہیں۔ ۷ اکتوبر ۱۹۸۳ ولثیر (Voltaire) کا قول ہے کہ آدمی کو اس کے سوالات سے سمجھو نہ کہ اس کے جوابات سے : Judge a man by his questions rather than his answers. یہ بہت با معنی قول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جواب دینے کے مقابلہ میں سوال کرنا زیادہ مشکل کام ہے۔ آدمی کا سوال اس کی پوری شخصیت کو بتا دیتا ہے۔ کم از کم میرا تجربہ یہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو واقعی کوئی گہرا سوال کریں۔ بیشتر لوگ محض سطحی قسم کے سوال کرنا جانتے ہیں۔ ۸ اکتوبر ۱۹۸۳ ایک شخص نے کامیابی کا راز سادہ طور پر ان چند لفظوں میں بیان کیا اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تم زیادہ کام کرو : If you want to succeed, work harder. میرا خیال ہے کہ کامیابی کا اس سے مختصر نسخہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں ہر کامیابی دوسروں کے مقابلہ میں کامیابی کا نام ہے۔ اس لئے ایک شخص اسی وقت کوئی قابل ذکر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader