Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیابی حاصل کر سکتا ہے جب کہ وہ زیادہ محنت کرکے مقابلہ کرکے اس کا استحقاق پیدا کرے۔ مکھن گویا چھانچ اور گھی کا مجموعہ ہے۔ لیکن ممکن سے براہ راست گھی نکالنا چاہیں تو وہ چھانچ سے الگ ہو کر آپ کو نہیں مل سکتا۔ البتہ جب مکھن کو آگ پر پکائیں تو پکتے پکتے ایک وقت آتا ہے جب کہ چھانچ الگ ہو جاتا ہے اور مکھن الگ۔ یہ ایک قدرتی تمثیل ہے جو انسان کے معاملہ کو بتا رہی ہے۔ انسان کی شخصیت میں دو چیزیں ملی جلی ہیں ـــــ روح اور مادہ۔ عام حالت میں وہ مکھن کی طرح ایک دوسرے میں شامل رہتی ہیں۔ خدا کی طرف سے انسان پر مصیبتیں اور آزمائشیں اسی لئے ڈالی جاتی ہیں کہ اس کی شخصیت کا روحانی عنصر جو بمنزلہ گھی کے ہے، اس کی شخصیت کے مادی عنصر سے الگ ہو جائے جو بمنزلہ چھاچ کے ہے۔ اسی کا نام قرآن کی زبان میں تزکیہ ہے۔ انسان کا موجودہ مادی وجود جنت میں بسائے جانے کے قابل نہیں۔ جو شخص اپنے مادی وجود کو لے کر آخرت میں پہنچے وہ خدا کی جنت میں داخلہ کے لئے نااہل ٹھہرے گا۔ البتہ جو شخص اپنے موجودہ مادی وجود سے اسی دنیا میں اپنے آپ کو الگ کرلے اور اپنے روحانی وجود کے ساتھ آخرت میں پہنچے، اس کو نیا زیا دہ بہتر جسم دے کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ ۱۰ اکتوبر ۱۹۸۳ ایک مقولہ ہے کہ مایوس آدمی کو ہر موقع کے اندر مشکل نظر آتی ہے، اور پر امید آدمی کو ہر مشکل کے اندر موقع دکھائی دیتا ہے: The pessimist sees the difficulty in every opportunity, and the optimist sees the opportunity in every difficulty. ہر صورت حال میں کچھ روشن پہلو ہوتے ہیں اور کچھ تاریک پہلو۔ کوئی بھی صورت حال اس سے خالی نہیں۔ کامیابی صرف اس انسان کے لئے مقدر ہے جو تاریک پہلو کو نظر انداز کر دے، اور روشن پہلو کی طرف اپنا قدم بڑھا دے۔ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا دوسرا کوئی طریقہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page