ڈائری
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
عوام میں ایک حدیث مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے بیت اللہ کا حج کیا اور اس نے نہ مدینہ آکر، میری زیارت نہیں کی تو اس نے میرے اوپر زیادتی کی (من حج البيت ولم يزرني فقد جفاني) مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے۔ حافظ ذہبی، امام صنعانی، زرکشی اور ابن الجوزی وغیرہ نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن محمد ہیں جو اپنے دادا نعمان بن شبلی الباہلی سے روایت کرتے ہیں۔ ابن حبان نے ان کی بابت لکھا ہے کہ یہ آتی بالطامات یعنی وہ حیرت انگیز اور سنسنی خیز باتیں بیان کرتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں حدیثیں وضع کرنے کا ایک محرک یہ بھی رہا ہے کہ عوام ہمیشہ عجیب و غریب قسم کی مبالغہ آمیز باتوں کو بہت دھیان سے سنتے ہیں اور بہت جلد ایسے لوگوں کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں اس قسم کے لوگ سنسنی خیز حدیثیں گھڑ کر سنایا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے لوگ موجود ہیں۔ اور یہ وہی ہیں جن کو زرد صحافی (Yellow journalists) کہا جاتا ہے۔ 12 اکتوبر 1983 تنقید کرنا غلط نہیں، تنقید کو برا ماننا غلط ہے۔ واحد پابندی جو تنقید کے اوپر لگائی جاسکتی ہے وہ یہ کہ تنقید کو تنقید ہونا چاہئے نہ کہ تعیب۔ یعنی عیب جوئی اور الزام تراشی کرنے کے بجائے واضح دلائل کی بنیاد پر اٹھایا خیال کیا جائے جس کو موجودہ زمانہ میں تجزیہ کہا جاتا ہے۔ 13 اکتوبر 1983 پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ مجھے اس دنیا سے دلچسپی ہے، اس زندگی سے، نہ کسی اور دنیا یا مستقبل کی زندگی سے : I am interested in this world, in this life, not some other world or future life. جواہر لال نہرو ان کے جیسے دوسرے لوگوں کو یہ کہنے کی تو آزادی ہے کہ انہیں صرف حال کی زندگی سے دل چسپی ہے۔ مگر ان کی مشکل یہ ہے کہ انہیں یہ آزادی نہیں کہ وہ اپنی مستقبل کی زندگی کا خاتمہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader