Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

کر سکیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں اس وقت تک کسی عقلمند آدمی کا یہ کام نہیں ہو سکتا کہ وہ موت سے پہلے والی زندگی سے تو دلچسپی رکھے اور موت کے بعد والی زندگی کو بھلا دے۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۳ ایک ہندو نوجوان سے ملاقات ہوئی جو آر ایس ایس سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آرایس ایس کے لوگ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا احساس یہ ہے کہ مسلمان دیش کے وفادار نہیں۔ ان کی وفاداریاں دیش کے باہر ہیں۔ اگر وہ ہماری طرح دیش کے وفادار بن جائیں تو پھر ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں آزادی کے بعد سے کئی بار ایسی سازشیں پکڑی گئی ہیں جن میں لوگ ہندوستان کا فوجی راز پاکستان کے ہاتھ بیچنے میں ملوث تھے۔ مگر یہ سب کے سب ہندو یا سکھ تھے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی مسلمان نہ تھا۔ کیا اس سے مسلمانوں کے بارہ میں آپ کا الزام غلط ثابت نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم بھارت کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جو ساری دنیا کو رہنمائی دے سکے۔ پھر کیا آپ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ساری دنیا وطن کے خانوں میں بٹ جائے۔ آج کی دنیا بین اقوامیت کو پسند کرتی ہے۔ ایسی حالت میں آپ کی محدود وطنزیت میں اس کے لئے کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔ پھر میں نے ان کو فرانسس فینلون (Francis Fenelon) کا قول سنایا کہ میں اپنے ماں کو اپنے خاندان سے زیادہ عزیز رکھتا ہوں، مگر انسانیت مجھے اپنے ملک سے بھی زیادہ عزیز ہے : I love my country better than my family: but I love humanity better than my country. میں نے کہا کہ ایک ایسی دنیا جہاں لوگ عالمی سفر کے لئے انٹرنیشنل سواری کے طالب ہوں، وہاں آپ لوگوں کو ایک ایسی سواری پر بیٹھنے کے لئے راضی نہیں کر سکتے جو صرف مقامی سفروں کے لئے کار آمد ہو۔ مسائل ہر ملک میں ہیں اور ہندوستان میں بھی ہیں۔ ہمیں حق ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ مگر مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمیں لازمی طور پر خاموش اور پر امن انداز اختیار کرنا چاہئے نہ کہ احتجاجی انداز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page