Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

(agitational approach) احتجاجی انداز مسلمانوں کی داعیانہ حیثیت کے مطابق نہیں۔ نیز یہ کہ موجودہ حالت میں احتجاجی انداز کی شدت کو مزید بڑھاتا ہے وہ کسی درجہ میں بھی اس کو کم نہیں کرتا۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۳ء تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ کام کرنے کے دو انداز ہیں۔ ایک خارجی انداز (outward approach) اور دوسرا داخلی انداز (inward approach) اس وقت مسلمانوں میں بے شمار تحریکیں چل رہی ہیں، مگر سب کم یا زیادہ، خارجی انداز کار پر چل رہی ہیں۔ میرے نزدیک صرف دو قابل ذکر تحریکیں ہیں جو داخلی انداز کار پر چل رہی ہیں ، ایک تبلیغی جماعت اور دوسرے الرسالہ کا مشن ۔ میں نے کہا کہ مجھے تبلیغی جماعت سے کئی معاملوں میں اختلاف ہے۔ مثلاً وہ لوگ پوری تحریک فضائل کی بنیاد پر چلا رہے ہیں جو میرے نزدیک صحیح نہیں۔ تاہم میں تبلیغی جماعت کی اس لئے قدر کرتا ہوں کہ وہ امت میں داخلی طرز فکر پیدا کر رہے ہیں جو صحیح طرز فکر ہے۔ دوسرے لوگ پوری ملت کو خارجی طرز فکر پر ڈال رہے ہیں جو ان کو کہیں پہنچانے والا نہیں ۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۳ء ۱۹۷۱ء میں ہندوستانی فوجوں نے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اور مکتی باہنی کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کیا۔ اس آپریشن کے وقت ہندوستانی فوجوں کے جنرل فیلڈ مارشل مانک شاہ تھے۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد مانک شاہ کو ہندوستان میں زبردست استقبال ملا۔ جگہ جگہ ان کے اعزاز میں جلسے کئے گئے ۔ دہلی کے ایک اسکول میں اسی قسم کے ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مانک شاہ نے کہا: Had I been on the other side, history would have been different today. اگر میں دوسری طرف ہوتا تو آج تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔ یعنی مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے بجائے انڈیا یا پاکستان بن جاتا۔ اسی کو برخود غلط کہتے ہیں، اور برخود غلط ہونا بلاشبہ سب سے بڑا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page