Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو اور دوسرے کے لئے وہی چیز ناپسند کرو جو تم اپنے لئے ناپسند کرتے ہو، معاشرتی اخلاقیات کے لئے اس سے زیادہ سادہ اور اس سے زیادہ صحیح اصول کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ میں کبھی سوچتا ہوں کہ انسان کس قدر سرکش مخلوق ہے۔ اور شاید اس کی سب سے بڑی سرکشی یہ ہے کہ وہ خدا کے کلام میں اپنا کلام ملاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ پچھلی امتوں نے اسی سرکشی کی بناء پر اپنی آسمانی کتابوں کو محرف اور غیر معتبر بنا دیا۔ مسلمان اس معاملہ میں کم مجرم نہیں ہیں۔ قرآن کی حفاظت کے لئے خدا کے فرشتے مقرر تھے ، اس لئے وہ قرآن میں اپنا کلام نہ ملا سکے ۔ مگر حدیث میں انھوں نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اپنا کلام ملایا۔ حتی کہ موضوع حدیثوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ۔ مثال کے طور پر شیعہ حضرات نے حضرت علی کی مطلق فضیلت ثابت کرنے کے لئے بے شمار عجیب و غریب قسم کی حدیثیں گھڑ لیں۔ اس کے جواب میں سنی حضرات نے ابو بکر و عمر رض کی فضیلت میں حدیثیں گھڑ نا شروع کر دیا۔ مثلا رازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب ابو بکر صدیق کا جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس لایا گیا تو آواز دینے والے نے آواز دی کہ اے رسول اللہ آپ پر سلام ہو، یہ ابو بکر دروازہ پر حاضر ہیں (السلام علیکم یا رسول اللہ، هذا ابو بكر بالباب)، اسی وقت دروازہ کھل گیا اور قبر کے اندر سے یہ آواز آئی : ادخلوا الحبيب الى الحبيب دوست کو دوست کے پاس لے آؤ اس قسم کی روایتیں گھڑ نا بلا شبہ سطحیت بھی ہے اور سرکشی بھی۔ ۲۲ اکتوبر ۱۹۸۳ مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک شعر کا ایک مصرع یہ ہے : دیں کے لئے حرام ہے اے دوستو قتال غلام احمد قادیانی کے اس شعر پر مسلمانوں نے بہت شور و غل کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس شعر میں ایک صحیح بات کو غلط لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس شعر میں "دین" کے لفظ کو اگر دعوت دین کے معاملہ میں لیا جائے تو بات بالکل بدل جائے گی ۔ یعنی لفظ بدل کر اس کو یوں کہا جائے کہ دعوت کا کام جنگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page