Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ جنگ چھیڑ کر نہیں کیا جا سکتا۔ قتالِ دفاع کے مقصد کے لئے دین میں عین جائز بلکہ ضروری ہے۔ اس کے حرام ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ مگر دعوت کا عمل ایک نصیحت کا عمل ہے۔ اور نصیحت کے لئے ضروری ہے کہ سننے والے اور سنانے والے کے درمیان خوش گوار فضا ہو۔ اس فضا کو باقی رکھنے کے لئے داعی کو یکطرفہ طور پر ٹھکرادے احتراز کرنا پڑتا ہے۔ ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۳ء ایک مقولہ ہے کہ ”کمال کا قاعدہ ظہور ہوتا ہے: پھول جب تکمیل کے مرحلہ کو پہنچتا ہے تو خوشبو دینے لگتا ہے۔ بخارات اٹھنے کا عمل تکمیل کو پہنچتا ہے تو بارش ہونے لگتی ہے۔ چاند جب مکمل ہو جاتا ہے تو پوری طرح روشنی دینے لگتا ہے۔ وغیرہ یہی معاملہ دین کا ہے۔ قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ خدا کا دین اب کامل ہو چکا ہے۔ یعنی وہ آخری حد تک مسلم اور مستحکم ہو چکا ہے۔ جب دین اس طرح مکمل ہو جائے تو اس کے اندر وہ طاقت آجاتی ہے کہ اپنے آپ پھیلنے لگے۔ چنانچہ اسلام اب یہ طاقت رکھتا ہے کہ اپنے آپ پھیلے۔ آج اسلام جو اپنے آپ نہیں پھیل رہا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی قومی سیاست سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت اور کشیدگی کی فضا پیدا کر رکھی ہے۔ مسلمان اگر اس قسم کی سیاست ترک کر دیں اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نارمل فضا پیدا ہو جائے تو اس کے بعد خدا کا دین اپنے آپ پھیلنا شروع ہو جائے گا۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۳ء فرانس بیکن (Francis Bacon) کا قول ہے کہ جب تم اقدام کر دو تو اس سے پہلے یہ سوچ لو کہ تم کیا کہہ سکتے ہو : Before you attempt consider what you can perform. اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو قابل عمل دائرہ میں اقدام کرنا چاہئے۔ ناقابل عمل دائرہ میں اقدام کرنا ناکامی کے خندق میں چھلانگ لگانا ہے۔ جو لوگ ناقابل عمل دائرہ میں اقدام کریں، اور پھر جب ناکام ہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page