ڈائری
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
تو حالات کی شکایت لے کر بیٹھ جائیں، وہ در حقیقت دوسروں کی شکایت نہیں کرتے، بلکہ خود اپنی نادانی کا اعلان کر رہے ہیں۔ قرآن خدا کا کلام ہے۔ مگر قرآن براہ راست ہم کو خدا سے نہیں ملا ہے بلکہ پیغمبر کے واسطہ سے ملا ہے۔ اس طرح بہت سی حدیثیں ہیں جن کو حدیث قدسی کہا جاتا ہے۔ ان حدیثوں میں بھی متکلم خدا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس کے راوی ہیں۔ مگر یہ احادیث قدسی کسی مصحف (قرآن) میں داخل نہیں کی گئیں۔ قرآن کی تلاوت کرنا عبادت ہے۔ قرآن کو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ مگر حدیث قدسی کی نہ اس طرح تلاوت کی جاتی اور نہ اس کو نماز میں پڑھنا جائز ہے ان القرآن متعبد بتلاوته فهو الذي تتعين القراءة به في الصلاة وقرأته عبادة يثاب عليها. والحديث القدسي ليس متعبدا بتلاوته ولا تجزى القراءة به في الصلاة اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں قرآن کی حفاظت کا کتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے۔ ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۳ خلیفہ ہارون رشید ایک روز باہر نکلے۔ انھوں نے سعید بن سلم کو دیکھا۔ خلیفہ نے پوچھا کہ کون۔ انھوں نے کہا سعید، اللہ آپ کو سعادت بخشے۔ خلیفہ نے دوبارہ پوچھا کہ کس کا لڑکا۔ انھوں نے کہا کہ سلم کا لڑکا۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ خلیفہ نے پھر پوچھا کہ کس کا باپ۔ انھوں نے کہا عمرو کا باپ، اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ خلیفہ ہارون رشید نے کہا، اللہ تمہیں برکت دے۔ اور پھر اس نے ان کا اکرام کیا (خرج هارون الرشيد يوماً فرأى سعيد بن سلم فقال مَن ـ قال سعيد، اسعدك الله . قال ابن مَن ـ قال ابن سلم، سلمك الله ـ قال الابومن ـ قال ابو عمر و عمرك الله ـ فقال الرشيد بارك الله عليك واكرمه) بڑوں سے بات کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مجھے اس قسم کی بات کرنا بالکل نہیں آتا۔ حتی کہ بہت ادنیٰ طور پر بھی نہیں۔ ڈاکٹر مصطفیٰ السباعی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے : عظمائنا فی التاریخ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader