Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

مینڈک کے پاؤں کو قابلِ خوراک چیز کی حیثیت سے دریافت کرنا جتنا زیادہ مشکل کام ہے۔ اس سے زیادہ مشکل زندگی کی اس حقیقت کو دریافت کرنا ہے کہ چھوٹا آغاز ہی دراصل بڑا آغاز ہے۔ ابتدائی مقام سے کام شروع کرنے والا ہی آخر کار منزل پر پہنچتا ہے۔ معمولی میں غیر معمولی کو دیکھنا بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو بصیرت کے اس معیار پر پورے اترتے ہیں۔ ۲۶ جنوری ۱۹۸۳ء مکمل آزادی کی تجویز غالباً سب سے پہلے حسرت موہانی (۱۹۵۱ء - ۱۸۸۱ء) نے کانگریس کے اجلاس احمد آباد میں ، ۲ دسمبر ۱۹۲۱ء کو پیش کی تھی۔ مگر وہ منظور نہیں ہوئی۔ اس وقت مکمل آزادی کی بات کرنا بہت خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ حسرت موہانی نے کانگریس میں اپنے باغیانہ ذہن کی تسکین نہ پا کر اسے چھوڑ دیا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے مکمل آزادی کا رزولیوشن پہلی بار ۳۱ دسمبر ۱۹۲۹ء کو اپنے اجلاس لاہور میں پیش کیا۔ اس وقت جواہر لال نہرو کانگریس کے صدر تھے۔ ۱۹۲۹ سے پہلے تمام ہندستانی لیڈر ہوم رول کی بات کرتے تھے۔ حتیٰ کہ بال گنگا دھر تک ۱۹۲۰ء ) کے سوراج کا مطلب بھی پورن سوراج نہیں تھا۔ کامل آزادی کی بات کرنا اس وقت کتنا خوفناک سمجھا جاتا تھا ، اس کا اندازہ برج نارائن چکبست کے اس شعر سے ہوگا : طلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے نہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے ۱۹۲۹ میں یا اس سے پہلے جو لوگ تاج برطانیہ کے تحت ہوم رول کی بات کرتے تھے ، بظاہر وہ کامل آزادی (پورن سوراج) کے مقابلہ میں بہت کم تر درجہ کی بات تھی۔ مگر جذبات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو تعمیری نقطۂ نظر سے وہی صحیح ترین بات تھی ۔ ہوم رول کا مطلب ابدی ہوم رول نہیں تھا ، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ملک کو بتدریج کامل آزادی کی طرف لے جایا جائے ۔ نو آبادیاتی نظام سے ہوم رول تک ، ہوم رول سے کامل آزادی تک ۔ زندگی میں روایات کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ ہندوستان نے روایات کو توڑ کر انقلابی انداز میں آزادی حاصل کی۔ اس کے نتیجہ میں تمام سماجی قدریں تہس نہس ہوگئیں اور ملک ترقی کی طرف نہ جا سکا ۔ اگر روایات کو باقی رکھتے ہوئے تدریجی انداز میں آزادی حاصل کی جاتی تو سماجی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page