Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ میں ہمارے بڑے لوگ اسی طرح اردو میں ایک کتاب چھپی تھی جس کا نام تھا : ناموران اسلام۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی کتابیں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے لکھی ہیں۔ مثلاً "العبقریات الاسلامیة" ۔ وغیرہ۔ مگر مجھے اس قسم کے نام اور اس طرح کے ذہن کے تحت کتاب لکھنا بالکل پسند نہیں۔ بزرگوں" سے مراد اگر صحابہ کرام اور صلحا امت ہیں تو وہ ہمارے لئے نمونہ ہیں۔ اگر انھیں "خطاء" کہا جائے تو اس سے پیرو پرستی کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اور اگر انھیں " قدوة " کہا جائے تو اس سے اتباع کا ذہن پیدا ہوگا۔ اول الذکر سے فخر کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور ثانی الذکر سے تواضع کی نفسیات۔ ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۳ء قدیم طرز کی توپ کو چلانے کا کام جو شخص کرتا تھا، اس کو " میر آتش " کہا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں یہ کام زیادہ تر مسلمان کرتے تھے۔ مثلاً چھتر پتی شیواجی کے توپ خانہ کا میر آتش ابراہیم گردی تھا۔ رانی جھانسی لکشمین بائی کے میر آتش کا نام محمد غوث تھا، وغیرہ۔ روایتی دور میں مسلمان ہر میدان میں آگے تھے، سائنسی دور میں وہ ہر میدان میں پیچھے ہو گئے۔ ۲۹ اکتوبر ۱۹۸۳ء چارلس ڈکنز (Charles Dickens) کا قول ہے کہ ـــــــــ خاموشی ایک ناقابلِ برداشت قسم کا پر زور جواب ہے : Silence is the unbreakable repartee. اگر کوئی آدمی آپ کے خلاف لغو باتیں کرے اور آپ جواب دینے کے بجائے خاموش ہو جائیں تو آپ خود اس آدمی کے ضمیر کو اس کا جواب دینے والا بنا دیتے ہیں۔ اس کا ضمیر جاگ کر اس کو بتاتا ہے کہ تم ایک کمینہ صفت انسان ہو۔ یہ اندرونی جواب بلا شبہ تمام جوابوں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ انسان دوسرے پر حملہ کر مقابلے میں شکست دے گا، اس نے ضمیر کے مقابل میں بیٹھنے کی طاقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page