Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف ایک کمزور شخص ہو۔ اس سلسلہ میں تفسیروں میں بعض سلف کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ حضرت شعیب نابینا تھے (کماں شعیب ضریر البصر ، تفسیر ابن کثیر ) یہ تفسیر صحیح نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبروں کی دعوت قوم کے مزاج کے خلاف ہوتی تھی۔ اس لئے پیغمبر اپنی قوم سے کٹ جاتا تھا۔ وہ قوم کے درمیان اجنبی بن جاتا تھا۔ قوم کے درمیان ان کی کمزوری کا اصل سبب یہی تھا۔ یہ صورت حال ہر پیغمبر کے ساتھ پیش آئی۔ حتیٰ کہ خود پیغمبر اسلام کے ساتھ بھی کہ میں ایسا ہی ہوا۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء قدیم یونان کا ایک مشہور فلسفی ہے جس کا دیو جانس (Diogenes) ہے۔ اس کا زمانہ ۳۲۳ - ۳۱۲ ق م ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سردی کے موسم میں وہ دھوپ میں زمین پر لیٹا ہوا تھا۔ شاہ الیکزینڈر خود اس کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ آپ کو جو کچھ مانگنا ہے مانگیں، اس کو پورا کیا جائے گا۔ دیو جانس نے شاہ کی طرف رحم بھری ہوئی نظروں سے دیکھا اور کہا : میں تم سے کیا مانگوں، تمہارے پاس مجھے دینے کے لائق کوئی بھی چیز نہیں۔ جو کچھ تم دے سکتے ہو وہ مجھے چاہتے نہیں۔ بس تم میرے اتنی مہربانی کرو کہ سامنے سے ہٹ جاؤ، میری دھوپ نہ روکو۔ یہ افت آدمی کو بلند کرتی ہے۔ دیوجانس کا احساس تھا کہ اس کی فکری یافت بادشاہ کے خزانوں سے زیادہ بڑی ہے۔ اسی احساس نے اس کے اندر وہ استغناء پیدا کیا جس کا ایک نمونہ اوپر کے واقعہ میں نظر آتا ہے۔ یکم نومبر ۱۹۸۳ء صحیح بخاری میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page