Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

تو وہ اول و آخر سب کے لئے پکڑا جائے گا۔ ایک شاعر نے ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں کہا ہے : شبنم ناتواں سہی لیکن اس گلستاں میں ہے نو مجھ سے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اگر چہ قلیل اور کمزور ہیں، مگر وہ ملک کا ایک مفید عنصر ہیں. وہ ملک کی ”نمو“ کا باعث ہیں۔ بشعرانہ کلام میں صرف ایک تشبیہہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہوگئی۔ لیکن اگر اسی بات کو کلی طور پر ثابت کرنا ہو تو تشبیہی استدلال بالکل بے معنی ہوگا۔ اب اس بات کو کلی طور پر ثابت کرنے کے لئے حقیقی حوالے اور واقعی معلومات درکار ہوں گی۔ یعنی وہ چیز جس کو ڈیٹا (data) کہا جاتا ہے۔ ۳ نومبر ۱۹۸۳ ایک مولوی صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں اکابر پر تنقید ہوتی ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ آپ کو اکابر پر تنقید کئے بغیر اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ میں کوئی نیا کام نہیں کر رہا ہوں، میں وہی کر رہا ہوں جس پر تمام علماء کا آج بھی عمل ہے۔ بریلوی فرقہ مولانا اشرف علی تھانوی پر تنقید کرتا ہے۔ دیوبندی لوگ امام ابن تیمیہ پر تنقید کرتے ہیں۔ اہل حدیث حضرات امام ابو حنیفہ پر تنقید کرتے ہیں۔ غرض ہر ایک دوسروں پر تنقید کر کے اپنے نقطہ نظر کو صحیح ثابت کر رہا ہے۔ پھر اگر اس عمومی مسلک پر میں بھی عمل کرتا ہوں تو اس میں آپ حضرات کو کیوں اعتراض ہے۔ ۴ نومبر ۱۹۸۳ اصحاب رسول نے جن ملکوں کو فتح کیا، کسی بھی ملک میں انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہاں انھوں نے مکمل ایمان اور مکمل شریعت کو اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہو۔ اور وہ اس وقت تک جنگ جاری رکھیں جب تک لوگ مکمل ایمان اور مکمل شریعت پر قائم نہ ہوجائیں۔ انھوں نے شرک کا سیاسی زور توڑنے کے بعد فورا ہتھیار رکھ دئے ۔ ان کا مقصد حرب کو ختم کرنا تھا نہ کہ نفس عقیدہ کو ختم کرنا (حتی تضع الحرب اوزارها)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page