Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جنگ ختم فتنہ کے لئے تھی نہ کہ ختم عقیدہ کے لئے۔ عقیدہ کا اختلاف تو دنیا کے دار الامتحان ہونے کا لازمی تقاضا ہے۔ پھر اس کو وہ کیسے ختم کر سکتے۔ "ویکون الدین للہ" کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ حالت فطری قائم ہو جائے ۔ اور لوگوں کو انتخاب (choice) کی وہ آزادی مل جائے جو خدا نے اپنے تخلیقی منصوبہ کے تحت انہیں دی ہے۔ جس طرح سورج کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ اسی طرح دین بھی خدا کا معاملہ ہے۔ انسان اپنی مداخلت سے خدا کے تخلیقی نقشہ کو بگاڑتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کو حکم دیا گیا کہ اس معاملہ میں انسان کی مداخلت کو ختم کرکے اس حالت فطری کو قائم کر دیں جس پر خدا نے اپنی دنیا کو پیدا کیا ہے۔ یعنی آزادی انتخاب کی حالت۔ صحابہ کرام کی جنگ، بھائی آزادی کے لئے تھی نہ کہ ختم آزادی کے لئے۔ ۵ نومبر ۱۹۸۳ کہا جاتا ہے کہ مغل حکمراں شاہ جہاں کی زبان پر ایک بار ایک مصرع آگیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ تعجب کی انگلی منہ میں ہے، آدھی اندر آدھی باہر: انگشت حیرت در دہاں نیمے درون نیمے بروں اب دربار کے شاعر کو حکم ہوا کہ وہ اس کا دوسرا مصرعہ مکمل کرے۔ شاعر نے ایک مصرعہ دفع کر کے اس میں شامل کیا۔ اب پورا شعر بن گیا : از ہیبت شاہجہاں لرز زمین و آسمان انگشت حیرت در دہاں نیمے درون نیمے بروں ایک بادشاہ سے زمین و آسمان کو لرزانے کی خاطر شاعر کے لئے صرف اتنی بات درکار ہے کہ وہ اپنے موافق ردیف و قافیہ پالے لیکن اگر حقیقی طور پر ایک ایسا انسان درکار ہو جس سے زمین و آسمان کا نہیں تو اس کے لئے ضرورت ہوگی کہ خدائی طاقتوں والا ایک ایسا انسان پیدا کیا جائے ۔ کتنا فرق ہے حقیقت میں اور شاعری میں۔ ۶ نومبر ۱۹۸۳ "مضمون نگاری" پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر اس سلسلہ میں مجھے ایک چھوٹا سا فقره بہت پسند آیا ڈوائے ڈاوٹ فائٹر (Creative Writing ) کی ایک کتاب ہے جو ۱۹۸۳ میں چھپی ہے۔ اس کا نام ہے: تخلیقی تحریر (Creat اس کتاب میں اس نے لکھا ہے کہ :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page