Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں غیرمسلموں میں اسلام کی دعوت پہنچانے کے لئے عام طور پر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ابھی تو خود مسلمانوں کی اصلاح نہیں ہوئی۔ پھر غیرمسلموں میں اسلامی دعوت کا کام کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ دلیل بالکل غلط ہے۔ اسلامی دعوت ایک ایسا فریضہ ہے جو امت کے کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا۔ امام غزالی نے لکھا ہے: الامر بالمعروف والنھی عن المنکر لا یسقط حق عن الفاسق (احیاء علوم الدین) ایک عرب نے قصہ بیان کیا کہ ایک انگریز نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کے معاشرہ میں آیا تو مسلمانوں کی اخلاقی حالت کو دیکھ کر بے حد مایوس ہو گیا، یہاں تک کہ اس نے اسلام کو ترک کر دیا رحمتی متھم ملا ذاتا وترك الاسلام یہ دلیل صحیح نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور صحابہ کے زمانہ میں بھی بہت سے لوگ مرتد ہو گئے تو کیا اس بنا پر اسلامی دعوت کا کام ترک کر دیا گیا۔ ۱۰ نومبر ۱۹۸۳ سہارن پور کے ایک تاجر نے ایک سبق آموز واقعہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ایک صاحب کے بینک اکاؤنٹ میں ڈیڑھ ہزار روپیہ کا سود جمع ہو گیا ۔ اب وہ ہر مجلس میں کہتے پھرتے تھے کہ میرے پاس یہ سود کی رقم ہے، اس کو کہاں خرچ کروں ۔ خود اپنے خرچ کے لئے تو اس کو لے نہیں سکتا۔ آپ لوگ بتائیے کہ اس کو کیا کیا جائے۔ اس کے بعد ان کا کاروبار بڑھا۔ اب ان کے اکاؤنٹ میں سود کی رقم تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہو گئی۔ اب وہ اس معاملہ میں بالکل خاموش ہو گئے ۔ اب وہ کسی سے اس کا ذکر بھی نہیں کرتے تھے۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اعلان تقویٰ کے لئے تو بہت بے قرار رہتے ہیں، مگر عمل تقویٰ سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔ ۱۹۸۱ میں آرچ بشپ آف کنٹربیری (لندن) کے دفتر بی بی سی لندن کے نام اپنے مراسلہ میں اس بات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ وہ پاکستان میں تیار ہونے والے بم کو "اسلامی بم"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page