Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

اک پھول کا مضمون ہر تو سورنگ سے باندھوں یہ شاعری کی نہایت صحیح تعریف ہے۔ شاعری میں اصل اہمیت "مضمون باندھنے" کی ہوتی ہے۔ شاعر کو حقیقت واقعہ سے غرض نہیں ہوتی ، اس کی ساری توجہ خیال آرائی اور الفاظ بندی پر لگی ہوئی ہوتی ہے۔ سائنس کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ شاعری اگر مضمون بندی کا نام ہے تو سائنس حقیقت رسی کا۔ سائنس داں کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اصل حقیقت تک پہنچے ، وہ چیزوں کو جیسا ہے ویسا ہی بیان کر سکے۔ موجودہ زمانہ کے اسلامی ادب اور اسلامی لٹریچر پر پستی سے سب سے زیادہ غلبہ شاعری کا رہا۔ حتیٰ کہ اس دور میں مسلمانوں کے چور رہنما اٹھے ، وہ بھی شعر وشاعری کے ماحول سے متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان خالص حقائق کی رعایت کرتے ہوئے اپنی ملی تعمیر کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ ۱۵ نومبر ۱۹۸۳ والٹر لپ من (Walter Lippmann) نے کہا ہے کہ جہاں سارے لوگ ایک ڈھنگ سے سوچتے ہوں، وہاں کوئی بھی شخص زیادہ سوچنے والا نہ ہوگا : Where all think alike, no one thinks very much. تمام لوگوں کا ایک انداز سے سوچنا دو میں سے کسی ایک سبب کی بنا پر ہوتا ہے۔ یا تو اس لئے کہ وہاں ہر شخص کم عقل ہو، یا اس لئے کہ سوچنے پر پابندی لگا دی گئی ہو ، اور دونوں ہی صورت کسی انسانی معاشرہ کے لئے تباہ کن ہے۔ ۱۶ نومبر ۱۹۸۳ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ انصاف میں کشادگی ہے۔ اور جو شخص انصاف پر ٹریٹس محسوس کرے تو بے انصافی اس کے لئے اس سے بھی زیادہ تنگ ہوگی (ان فی العدل سعۃ ، ومن ضاق عليه العدل فالجور عليه اضيق، العبقريات، صفحہ ۳۷۰ ) یہ ایک بے حد حکیمانہ بات ہے۔ جب بھی کوئی نزاع کی صورت پیش آئے تو اپنے دائمی حق پر راضی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page