ڈائری
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جانا کامیابی کا راستہ کھو تا ہے۔ اور اگر حق سے زیادہ لینے کی کوشش کی جائے تو بالآخر محرومی کے سوا کچھ اور ہاتھ آنے والا نہیں۔ عدل کا راستہ عافیت کا راستہ ہے اور ظلم کا راستہ مصیبت کا راستہ۔ مگر عام طور پر آدمی انصاف اور عدل والے راستہ کو اختیار نہیں کرتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بارہ میں بے لاگ رائے قائم نہیں کر پاتا۔ ۱۷ نومبر ۱۹۸۳ لا روشے فوکالڈ (La Rouchefoucauld) نے کہا کہ ہم اپنی چھوٹی غلطیوں کو مان لیتے ہیں، اس لئے تاکہ یہ ظاہر کرسکیں کہ ہم نے کوئی بڑی غلطی نہیں کی ہے : We confess little faults in order to suggest that we have no big ones. اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جن باتوں کے اعتراف کے باوجود آدمی کی اصل شخصیت محفوظ رہتی ہے، ان کا وہ اعتراف کر لیتا ہے۔ اور جن باتوں کے اعتراف سے اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کی اصل شخصیت مجروح ہو جائے گی، ان کا اعتراف کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتا۔ ۱۸ نومبر ۱۹۸۳ مجاہد تابعی کا قول ہے کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں کلام کرے جب کہ وہ عربوں کی زبان کا علم نہ رکھتا ہو (قال مجاهد : لا يحل لاحد يؤمن بالله واليوم الآخر ان يتكلم في كتاب الله اذا لم يكن عالماً بلغات العرب) قرآن عربی زبان میں ہے۔ اس لئے قرآن کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو عربی زبان اچھی طرح جانتا ہو۔ عربی زبان پر بخوبی قدرت نہ ہو تو آدمی قرآن کو سمجھنے میں طرح طرح کی غلطیاں کرے گا۔ ۱۹ نومبر ۱۹۸۳ قال الحسن بن علی : الناس ثلاثة - فرجل رجل ، ورجل نصف رجل - ورجل لا رجل (حضرت حسن نے کہا کہ انسان تین قسم کے ہیں۔ ایک وہ انسان جو پورے معنوں میں انسان ہے۔ دوسرا وہ جو آدھا انسان ہے۔ اور تیسرا وہ انسان جو انسان نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader