ڈائری
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان حقیقۃً وہ ہے جس کے اندر مطلوبہ انسانی اوصاف ہوں ۔ مگر دنیا میں ایسے انسان بہت کم ملتے ہیں جو پورے معنوں میں انسان ہوں ۔ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو جزوی انسان ہیں نہ کہ کلی انسان۔ محمد حسنین ہیکل (سابق ایڈیٹر الاہرام) نے اپنے ایک مضمون میں اس پر گفتگو کی ہے کہ پٹرولیم کے ظہور نے عربوں کا کیا حال کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایک عرب جو پہلے خیموں میں زندگی گزارتے تھے، ان کے پاس اچانک دولت آگئی۔ انھوں نے سوئزر لینڈ میں ایک بہت بڑا مکان خریدا جو جدید ترین سامان سے آراستہ تھا۔ انھیں دنوں محمد حسنین ہیکل کا سوئزرلینڈ جانا ہوا تو مذکورہ عرب نے اپنے نئے مکان میں ان کی دعوت کی۔ جب وہ وہاں پہنچے تو مذکورہ عرب کا عجیب حال تھا۔ وہ گھر کی ایک ایک چیز کو تعجب خیز مسرت کے ساتھ انھیں دکھارہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے عرب کو یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ گھر اور یہ سب چیزیں اسی کی ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ آخرت میں میرا بھی یہی حال ہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے جنت کے ایک مکان میں داخل کرے جو میرے لئے قیاس و گمان سے بالا ہو۔ میں حیرانی کے ساتھ اسے دیکھوں اور سوچوں کہ کیا یہ اسی فقیر اور کم تر انسان کے لئے ہے جو دنیا میں " وحید الدین خاں " کے نام سے زندگی گزاررہا تھا۔ ۲۱ نومبر ۱۹۸۳ء ولیہ میک فی (William McFee) کا قول ہے کہ ـــ دنیا اس پر جوش شخص کے لئے ہے جو اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھے : The world belongs to the enthusiast who keeps cool. ہر آدمی کے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ ہر آدمی زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے مگر موجودہ دنیا میں آدمی اکیلا نہیں ہے۔ اور نہ حالات پر اسے مکمل قابو ہے۔ اس لئے اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو اپنے جوش کو ہوش کے تابع رکھے ۔ جو اپنے شوق کی تکمیل میں سرگرم ہونے کے ساتھ دوسروں کے شوق کی رعایت کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader