Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

قدریں نہ ٹوٹیں اور ملک آج کہیں زیادہ کامیاب اور ترقی یافتہ ہوتا۔ اس کی مثال وہ ممالک ہیں جہاں آزادی تدریج کے ساتھ آئی۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا۔ ہر آدمی کے ماضی میں اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں اور بری باتیں بھی۔ ہر آدمی سے دوسروں کے لئے کچھ قابل تعریف باتیں سرزد ہوتی ہیں اور کچھ قابل شکایت باتیں ۔ کسی آدمی سے آپ کا بنا دو ہو تو اس کو آپ کی اچھی باتیں یاد آئیں گی ۔ اور اگر اس سے آپ کا بگاڑ ہو جائے تو اس کو آپ کی صرف بری باتیں یاد آنے لگیں گی۔ ایسی حالت میں کسی آدمی کے لئے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ وہ دوسروں سے اپنے تعلقات کو بگڑنے نہ دے ، حتیٰ کہ اگر یہ نوبت آجائے کہ تعلقات کو معتدل رکھنے کے لئے اس کو یک طرفہ طور پر کچھ برداشت کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے ۔ یہ ابتدائی قربانی اس نقصان سے بہت کم ہے جو تعلقات کے بگاڑ کی صورت میں آدمی کو اٹھانی پڑتی ہے۔ ۲۸ جنوری ۱۹۸۳ء اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام میں باقاعدہ تبلیغ کا کام صرف دورِ اول میں ہوا ہے۔ اس کے بعد اسلام زیادہ تر اپنے آپ پھیلتا رہا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ساتھ خصوصی طور پر ایسے اسباب جمع کر دیئے تھے کہ تبلیغ کے بغیر اس کی تبلیغ ہوتی رہے۔ اسلام سے پہلے جو مذہب آئے ، وہ عام طور پر تبلیغ کے مرحلہ میں رہے ، وہ غلبہ کے مرحلہ تک نہیں پہنچے۔ مگر اسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ اسلام کو عالمی سطح پر ایک غالب تہذیب کے درجہ تک پہنچا دیا گیا۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اناسِ علیٰ دین ملوکہم کا معاملہ پیش آنے لگتا ہے۔ لوگ باقاعدہ تبلیغ کے بغیر صرف تہذیبی دباؤ کے تحت اس کے نظریات اور اس کے عقائد کو اختیار کرنے لگتے ہیں۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں یہی عمل برابر ہوتا رہا ۔ چنانچہ جبکہ باقاعدہ تبلیغ کے بغیر اسلام ساری دنیا مسلسل پھیلتا رہا۔ تاہم یہ صرف سیاسی اقتدار اور تہذیبی غلبہ کی بات نہیں ہے ۔ صحابہ کے دور میں جو اسلامی انقلاب ظہور میں آیا ، اس کے نتیجے میں ایسے مستقل اسباب پیدا ہو چکے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے یہ صورتِ حال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page