ڈائری
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر برٹ اسپنسر (Herbert Spencer) نے بجا طور پر کہا ہے کہ آدمی جو رائے بناتا ہے وہ۔ بالآخر احساسات کے زیر اثر بنتی ہے نہ کہ عقل کے تحت : Opinion is ultimately determined by the feelings, and not by intellect. انسان کی یہی کمزوری اس کے لئے صحیح رائے تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی خاص سبب ہے جس کی بنا پر اکثر اوقات لوگ انتہائی معقول بات کو بھی سمجھ نہیں پاتے ، خواہ اس کو کتنے ہی طاقت ور دلائل سے کیوں نہ ثابت کر دیا گیا ہو۔ ۲۳ نومبر ۱۹۸۳ روی بلال بن الحارث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: وان الرجل ليتكلم بالكلمة من سخط الله عليه ما كان يظن ان تبلغ ما بلغت فيكتب الله له بها سخطه الى يوم يلقاه (رواه ابن ماجه والترمذي) بلال بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، وہ اس کو زیادہ اہم نہیں سمجھتا۔ مگر اللہ اس پر اس کے خلاف اپنی ناراضگی اس وقت تک کے لئے لکھ دیتا ہے جب کہ وہ اس سے لے گا۔ روایات میں آتا ہے کہ علقمہ تابعی نے کہا کہ بلال بن حارث کی حدیث نے مجھے بہت سی بات بولنے سے روک دیا (قال علقمه: کم من حدیث منعتنه حديث بلال بن الحارث)، یہ دور اول میں مسلمانوں کا حال تھا۔ آج کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کے سامنے کتنی ہی آیتیں اور حدیثیں سنائیے۔ ان کی زبان رکنے والی نہیں۔ ۲۴ نومبر ۱۹۸۳ ایک صاحب نے کہا کہ نماز میں قرآن کو عربی میں پڑھنا ضروری نہیں۔ قرآن کا ترجمہ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا ثبوت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سلمان فارسی رض نے بعض قرآنی حصوں کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا تھا اور ایران کے کچھ لوگ اپنی نمازوں میں اس ترجمہ کو پڑھا کرتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader