Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ آپ ایک واقعہ کو غلط صورت میں پیش کر رہے ہیں۔ حنفی عالم شمس الائمہ سرخسی کے بیان کے مطابق ، اصل واقعہ یہ ہے کہ چند نو مسلم ایرانیوں نے سلمان فارسیؓ سے کہا کہ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔ مگر ابھی ہم کو سورہ فاتحہ یا نہیں، آپ سورہ فاتحہ کا ترجمہ ہماری مادری زبان (فارسی) میں کرکے ہمیں دے دیں۔ سلمان فارسی نے سورہ فاتحہ کا فارسی ترجمہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت پوچھا تو آپ نے ان کو منع نہ فرمایا۔ چنانچہ سلمان فارسی نے وہ ترجمہ مذکورہ نو مسلم ایرانیوں کے پاس بھیج دیا۔ یہ لوگ کچھ عرصہ تک اس کو اپنی نمازوں میں پڑھتے اور اسی کے ساتھ سورہ فاتحہ عربی کی یاد کرتے رہے۔ جب عربی متن انھیں یاد ہو گیا تو انھوں نے ترجمہ کو چھوڑ کر عربی پڑھنا شروع کر دیا۔ گویا سلمان فارسی کا ترجمہ ایک وقتی ضرورت تھا نہ کہ کوئی عمومی اصول۔ سلمان فارسی نے سورہ فاتحہ کا جو فارسی ترجمہ کیا ، اس کا پہلا فقرہ یہ تھا : بنام خداوند بخشاینده مہربان۔ ۲۵ نومبر ۱۹۸۳ ترجمہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ مترجم کو بیک وقت دو زبانوں کی رعایت کرنی پڑتی ہے۔ ایک وہ زبان جس سے ترجمہ کیا جا رہا ہے ، اور دوسری وہ زبان جس میں ترجمہ کرنا مقصود ہے۔ مثلاً انگریزی کا ایک مقولہ ہے : Politics is the art of possible اس جملہ کا لفظی ترجمہ اردو میں یہ ہوگا کہ سیاست ممکن کا فن ہے۔ یہ ترجمہ انگریزی کے لحاظ سے صحیح ہے۔ مگر اردو اسلوب کے اعتبار سے اس میں وہ معنوی زور پیدا نہیں ہوتا جو انگریزی فقرہ میں موجود ہے۔ اردو میں معنوی اعتبار سے زیادہ بہتر ترجمہ یہ ہوگا : سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ اس دوسرے ترجمہ میں بیک وقت دو تصرف کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ (possible) کا ترجمہ واحد کے بجائے جمع کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ (art) کا لفظی ترجمہ نہ کرتے ہوئے اس کا معنوی ترجمہ کیا گیا۔ یہاں "صحیح" ترجمہ با اعتبار اسلوب کمزور ہے ، اور " غلط ترجمہ " با اعتبار اسلوب زیادہ جاندار۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا کتنا مشکل کام ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page