ڈائری
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
مفتی محمد شفیع دیوبندی (مہاجر کراچی) نے لکھا ہے: جنگ عظیم اول کے موقع پر جب انگریز ترکی حکومت کے خلاف جنگ کر رہے تھے تو ہندوستان کے تمام مشاہیر علما ء ، حضرت شیخ الہند ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ نے ترکی حکومت کی جنگ کو جہاد قرار دے کر اس کے لئے چندے کئے تھے ، اور یہ کہا تھا کہ جو لوگ انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر ترکی کے خلاف لڑتے ہوئے مارے جائیں گے وہ کتے کی موت مریں گے۔ (ماہنامہ بینات ، کراچی ، فروری ۱۹۶۶ء ، صفحہ ۲۵) میرے نزدیک اس قسم کے فتوے بالکل لغو تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر چہ اس کی پشت پر مشاہیر اور اکابر“ کے نام تھے ، وہ ہوا میں اڑے اور ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ۲۷ نومبر ۱۹۸۳ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف امتیاز (discrimination) ہوتا ہے۔ یہاں ان کے لئے ترقی کے مواقع نہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ صورت حال اصل مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس صورت حال کو کس زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ اس کو امتیاز کہیں تو اس کے نتیجہ میں مایوسی کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اور اگر اس کو چیلنج قرار دیں تو اس کا سامنا کرنے کا ذہن ابھرے گا۔ جس چیز کو آپ ”امتیاز“ کہہ رہے ہیں ، وہ زندگی کی ایک حقیقت ہے جو ہر جگہ رہے گی ، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک۔ پھر جو چیز ہر حال میں باقی رہنے والی ہو اس کے خلاف شکایت اور فریاد کرنے سے کیا فائدہ۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے امتیاز اور تعصب اور ظلم کی کہانی اتنی زیادہ بار دہرائی کہ انھوں نے مسلمانوں کو بے حوصلہ کر دیا۔ اگر وہ ان حالات کو چیلنج کہہ کر پیش کرتے تو مسلمانوں میں مقابلہ کا حوصلہ پیدا ہوتا۔ یہ بلاشبہ تمام ظالموں سے زیادہ بڑا ظلم ہے کہ کسی گروہ کو غلط رہنمائی کے ذریعہ بے حوصلہ بنا دیا جائے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن جب وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرہ سے ہر وہ گناہ بہ جاتا ہے جس کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader