Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ سے ہر وہ گناہ بہہ جاتا ہے جس کو اس کے ہاتھوں نے پکڑا تھا۔ پھر جب وہ اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو اس کا ہر وہ گناہ بہہ جاتا ہے جس پر اس کے پاؤں چلے تھے۔ یہاں تک کہ وہ گناہو ں سے پاک ہو کر نکلتا ہے (حتی یخرج نقياً من الذنوب) اس کی تشریح میں ایک عالم لکھتے ہیں: ”وضو کی یہ کتنی بڑی فضیلت ہے کہ اس سے تمام صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہوتے رہتے ہیں۔“ حدیث کی یہ تشریح صحیح نہیں۔ وضو کے گناہوں کا دھلنا دراصل احساس وضو کی بنا پر ہوتا ہے نہ کہ محض عمل وضو کی بنا پر۔ بندہ مومن جب وضو کرتا ہے تو اس کا ایمانی شعور اس بدنی عمل کو روحانی عمل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وہ جب ایک عضو کو پانی سے دھوتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حضورِ رحمتِ خدا وندی سے دھل رہا ہے۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ خدا یا ، جس طرح پانی نے میرے اعضا کو دھویا ہے، اسی طرح تو اپنی رحمت سے میرے گناہ کو دھو دے۔ یہی ” نیت “ آدمی کو گناہوں سے پاک کرتی ہے نہ کہ کوئی ” خود بخود عمل “۔ ۲۹ نومبر ۱۹۸۳ علماء اہل سنت علی بن ابی طالب کو خلیفہ راشد قرار دیتے ہیں، اور معاویہ بن ابی سفیان کو مسلم ملوک میں پہلا ملک (سلطان) کہتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا جاتا ہے۔ حضرت علی نے خلیفہ بننے سے پہلے بڑے بڑے فاتحانہ کارنامے انجام دئیے۔ مگر خلیفہ بننے کے بعد جو کچھ ہوا وہ امام ابن تیمیہ کے الفاظ میں یہ تھا : ” خلافت علی میں کفار سے کوئی جہاد نہیں ہوا۔ اور نہ کوئی نئے شہر اور علاقے فتح کئے گئے۔ ان کی خلافت میں دینِ اسلام کو کوئی غلبہ حاصل نہیں ہوا۔“ دوسری طرف امیر معاویہ کے زمانہ اقتدار کے بارے میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں : ” معاویہ کی حکومت کے زمانہ میں برو بحر میں جہاد ہوا۔ شہر پر شہر فتح ہوئے۔ اسلام کی قوت و شوکت میں اضافہ ہوا اور ہر طرح سے اسلامی مملکت میں ترقی ہوئی اور دین مبین کی تروویج واشاعت ہوئی: اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ حضرت علی کے زمانہ اقتدار میں مسلمانوں کے اندر باہمی اختلاف پیدا ہو گیا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑتے رہے۔ جب کہ حضرت معاویہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page