ڈائری
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
کے زمانہ اقتدار میں ابتدائی اختلاف کے بعد اتحاد کی حالت قائم ہو گئی اور پھر حضرت معاویہ کے آخر وقت تک باقی رہی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اختلاف کتنی بڑی برائی ہے اور اتحاد کتنی بڑی خوبی۔ ۳۰ نومبر ۱۹۸۳ ایک عربی شاعر نے کہا ہے کہ اور جب محبوب سے کوئی ایک برائی ظاہر ہوتی ہے تو اس کی خوبیاں ہزار سفارش بن کر سامنے آجاتی ہیں : واذا الحبيب اتى بذنب واحد جاءت محاسنه بالف شفيع ہر انسان میں خوبیاں اور خرابیاں دونوں موجود ہوتی ہیں۔ آدمی کو کسی سے محبت ہو تو اس کی خوبیوں پر اس کی خوبیاں غالب رہتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی سے نفرت ہو جائے تو اس کی خوبیوں پر اس کی خرابیاں غالب آ جاتی ہیں۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنی محبت اور اپنی نفرت سے اوپر اٹھ کر کسی شخص کے بارہ میں رائے قائم کر سکتے ہوں۔ یکم دسمبر ۱۹۸۳ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ دنیا اس کو بھی دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا۔ مگر ایمان وہ اسی کو دیتا ہے جس سے وہ محبت کرے ( ان اللہ يعطى الدنيا من يحب ومن لا - يحب ولا يعطى الايمان الا من يحب ، رواه الترندی) یہاں "ایمان" سے مراد رسمی ایمان نہیں ہے بلکہ کیفیت والا ایمان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامان کی تقسیم تو عام ہے، اس میں سے ہر ایک کو حصہ ملتا ہے، حتی کہ خدا کے دشمنوں کو بھی۔ مگر ایمان کے گہرے تجربات اور قربت خداوندی کے نازک لمحات صرف اس انسان پر گزرتے ہیں جو اس کا خصوصی استحقاق ثابت کرے ۔ ایک اردو شاعر کا شعر ہے : اس نقش پا کے سجدہ نے کیا کیا ذلیل میں کوچہ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader