Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ شعر بظاہر عشق و عاشقی کی واردات کا بیان ہے۔ مگر ایک اردو تنقید نگار نے اس میں عارفانہ نکتہ نکال لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شعر میں در اصل تمثیل کی زبان میں یہ بات کہی گئی ہے کہ انسان کو چاہئیے کہ خدا کے مقابلہ میں اپنی انا کو ختم کر دے۔ اردو اور فارسی شاعری میں اس طرح کے بے شمار عارفانہ نکتے دریافت کئے گئے ہیں۔ مگر اس قسم کے شاعرانہ نکتے صرف بعض طبیعتوں کو محظوظ کر سکتے ہیں، یہ نا ممکن ہے کہ ایسے نکتوں کے ذریعہ لوگوں میں معرفت ربانی کا شعور پیدا کیا جا سکے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اسی قسم کی نکتہ سنجی کی زبان میں اسلامی بیداری کا درس دیتے رہے ہیں۔ مثلاً ابو الکلام آزاد نے ۱۹۴۷ء کے بعد اپنی ایک تقریر میں کہا: ’’ستارے ڈوب گئے تو ڈوب جائیں، سورج روشن ہے، اس سے کرنیں مانگ لو اور اپنے راستہ میں بچھا دو۔‘‘ اسی طرح اقبال کا شعر ہے: جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان شارحین کے نزدیک مولانا آزاد کے مذکورہ فقرہ میں قرآنی اتباع کی دعوت ہے۔ اور ڈاکٹر اقبال کا شعر اشدّاء علی الکفار رحماء بینہم کی تفسیر۔ مگر یہ سب نکتے کی باتیں ہیں۔ یہ انداز کلام کسی ایک شخص کے اندر بھی اسلامی انقلاب پیدا نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی نکتہ آفرینیاں ہمیشہ ذہنی تفرّق کا سامان ہوتی ہیں نہ کہ نصیحت اور اصلاح کا درس۔ ۳ دسمبر ۱۹۸۳ پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۲ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کو خطاب کیا۔ اگلے دن اس کی رپورٹ ہندوستان کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ پی ٹی آئی کی مرتب کردہ رپورٹ جو ٹائمس آف انڈیا (۲۷ اکتوبر ۱۹۸۸) میں شائع ہوئی، اس کا ایک جملہ یہ تھا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلہ کا ایک پر امن حل چاہتا ہے، مگر کشمیر کے عوام کی رائے معلوم کئے بغیر اس کا کوئی حل ممکن نہیں۔‘ جنرل نے کہا، جنھوں نے پانچ سال پہلے فوجی انقلاب (۱۹۷۷) کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے بعد پاکستان میں کسی قسم کا الیکشن کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کے رپورٹ کے اصل مطبوعہ الفاظ یہ ہیں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page