ڈائری
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
"Pakistan wanted a peaceful solution to the Kashmir problem, but there could be no solution without consulting the people of Kashmir," said the general, who has refused to hold any elections in Pakistan since he came to power in a coup more than five years ago. The Times of India, October 27, 1982 پی ٹی آئی کے نامہ نگار کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ اپنے لئے اس کو جائز سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان میں محض طاقت کے بل پر حکومت پر قبضہ کر لیں اور عوام کی آزادانہ رائے لینا ضروری نہ سمجھیں تو آپ کشمیر میں کیوں اس نظریہ کے وکیل بن سکتے ہیں کہ پہلے وہاں کے عوام کی رائے معلوم کرو، اس کے بعد عوامی رائے کے مطابق وہاں حکومت کا نظام قائم کرو۔ اسی کو کہتے ہیں : خود را فضیحت دیگران را فضیحت ۔ ۴ دسمبر ۱۹۸۳ دنیا میں بے شمار لوگوں پر آفتیں آتی ہیں۔ کتنے آدمی ہیں جن کی تمنائیں حسرت دیس کے قبرستان میں دفن ہو جاتی ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جن کی زندگیاں حوادث کی آگ میں جھلس کر رہ جاتی ہیں۔ مگر یہ سب کچھ صرف ان کا ذاتی واقعہ ہوتا ہے۔ وہ ان کے سینہ میں کسک بن کر باقی رہتا ہے۔ اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کے وجود کے ساتھ ان کے تلخ احساسات بھی اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ مگر آرٹسٹ کی ہلاکت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ جب ایک آرٹسٹ ہلاک ہوتا ہے تو اس کی چیخ دوسروں کو بھی سنی پڑتی ہے۔ اس کے سینہ میں دہکتی ہوئی محرومی کی آنچ دوسروں تک بھی پہنچ کر رہتی ہے۔ عام آدمی کی ہلاکت گونگے کی ہلاکت ہے ، اور آرٹسٹ کی ہلاکت زبان والے کی ہلاکت۔ یہی حقیقت ہے جس کو شاعر عالم فانی بدایونی نے اپنے شعر میں اس طرح نظم کیا ہے : زمانہ پر سر ازار تھا مگر فانی تڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو اسی بات کو شیط نے ان لفظوں میں کہا ہے : شاعر دکھوں سے سیکھتے ہیں اور گیتوں سے سکھاتے ہیں۔ یہی معاملہ دائمی حق کا بھی ہے۔ خدا ایک ” زبان والے" کو چنتا ہے، اور پھر اس کو دل اُشديد (المزمل) کے انتہائی سمت مراحل سے گزار کر حد درجہ حساس بناتا ہے تاکہ وہ خدا کے جلال اور میدان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader