Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

حشر کی قیامت خیزی کے بارہ میں سب سے زیادہ تڑپنے والا بن جائے، اور پھر اس سے لوگوں کو باہر کرے۔ دعوت محض بولنے اور لکھنے کا نام نہیں، یہ ایک حساس انسان کے اندرونی طوفان کے باہر آنے کا نام ہے، اور یہ چیز و طا رشدید کے بغیر ممکن نہیں۔ ۵ دسمبر ۱۹۸۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔ آپ ہر روز ستر بار استغفار کرتے تھے۔ پیغمبر ایسا مصنوعی طور پر نہیں کرتا۔ یہ چیز حقیقی طور پر اس کے دل سے نکلتی ہے۔ خدا مختلف قسم کے شدید حالات سے گزار کر اس کو حد درجہ حساس بناتا ہے۔ اس کی حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ گناہ تو درکنار، وہ اپنی بے گناہی پر تڑپنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی عظمت سے اتنا زیادہ دباہواہوتا ہے کہ بظاہر کوئی خلاف ورزی نہ ہو تب بھی وہ سہا ہوا رہتا ہے کہ خدا اسے پکڑ نہ لے، اس کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کے احساس عجز کو اتنا زیادہ بڑھادیتی ہے کہ خدا کی طرف سے رحمت ومغفرت کے وعدہ کے باوجود اس کی زبان سے نکل جاتا ہے : واللہ لا ادری و اللہ لا ادری و اللہ لا ادری خدا کی قسم میں نہیں جانتا ، خدا کی قسم میں نہیں جانتا، و انا رسول الله ، ما يفعل بی ولا خدا کی قسم میں نہیں جانتا، حالانکہ میں خدا کا رسول ہوں۔ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمہارے بكم. ساتھ۔ پیغمبر کے ساتھ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ اس کے تجربات حقیقی ہوں، مصنوعی نہ ہوں۔ اس کا کلام مشینی کلام کی مانند نہ ہو بلکہ حقیقی معنوں میں ایک متقی انسان کا کلام بن جائے۔ ۶ دسمبر ۱۹۸۳ دہلی کا ایک مسلم کارخانہ ہے۔ اس کے بیشتر کارکن مسلمان ہیں۔ کارخانہ کے مالک سے کارکنوں کے کچھ معاشی مطالبات چل رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں کارکن روزانہ مظاہرہ کرتے ہیں۔ دن کے ایک بجے جب وقفہ ہوتا ہے تو تمام کارکن کارخانہ کے گیٹ پر جمع ہو جاتے ہیں اور سب مل کر نعرہ لگاتے ہیں پہلا نعرہ ہوتا ہے " نعرہ تکبیر، اللہ اکبر" اس کے بعد نعرے یہ ہیں: سرمایہ داری مردہ باد، مزدور اتحاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page