ڈائری
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
زندہ باد ، ہماری مانگیں پوری کرو۔ دین کو اپنے دنیوی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا جو جنون اور پر کی مثال میں نظر آتا ہے، اس میں آج پوری امت مبتلا ہے۔ تمام مسلم قائدین کا آج یہ حال ہے کہ وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسلام کی دھوم مچاتے ہیں۔ مگر اس دھوم کے پیچھے جو اصل غرض ہوتی ہے، وہ ہے ـــــــــ قوم سے چندہ وصول کرنا، اپنی قیادت کی امیج بڑھانا، اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنا، اپنے کوئی رہنما یا عالمی قائد کی حیثیت سے نمایاں کرنا۔ آج ہمارے تمام قائدین اپنی دنیوی سیاست کے لئے دین کا نعرہ استعمال کر رہے ہیں، کوئی بھونڈے طریقہ سے ایسا کر رہا ہے اور کوئی خوب صورت طریقہ سے۔ قومی تحریکوں کو اسلامی اصطلاح میں بیان کرنا، معاشی سرگرمیوں کو جہاد کا عنوان دینا، تیادتی ہنگاموں کو پیغمبرانہ مشن قرار دینا، یہ آج کی دنیا میں عام ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں دین کے بدلے دنیا خریدنا کہا گیا ہے۔ ۷ دسمبر ۱۹۸۳ء امیر شکیب ارسلان نے ایک بار کہا تھا کہ ہمارے زمانہ میں جو اسلامی دنیا ہے، اس کی حالت فن عروض کی بحر کی طرح ہے ، کہ نام تو ہگر کا ہے مگر پانی کا ایک قطرہ بھی اس میں نہیں۔ آج مسلمانوں میں دین کے نام پر بے شمار تحریکیں چل رہی ہیں۔ ساری دنیا میں ایک ہنگامہ اسلام برپا ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو ان کی حقیقت کچھ نہیں۔ یہ تحریکیں ربانیت کی زمین پر نہیں اٹھیں، بلکہ صرف قومیت کی زمین پر اٹھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی بڑی بڑی تحریکیں بالکل بے انجامی پر ختم ہو جاتی ہیں۔ ۸ دسمبر ۱۹۸۳ء ایک ہند و نوجوان کا واقعہ ہے۔ وہ قانون کا طالب تھا۔ کسی نے پوچھا کہ تم قانون پڑھ کر کیا کرو گے اس نے جواب دیا : چل گئی تو موتی لال ، نہیں چلی تو جوہر لال۔ موتی لال نہرو نے بھی قانون کی تعلیم حاصل کی اور ان کے بیٹے جواہر لال نہرو نے بھی۔ موتی لال نے الہ آباد میں پریکٹس شروع کی اور اس میں کامیاب ہوگئے ۔ چنانچہ وہ عمر بھر پریکٹس کرنے رہے۔ جواہر لال نہرو نے بھی پریکٹس شروع کی۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انھوں نے وکالت چھوڑ کر سیاسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader