Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

قیادت کا میدان اختیار کر لیا اور ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم بنے۔ آدمی کسی کام کو بطور مشن اختیار کرے تو وہ اس کو ہر سال میں جاری رکھتا ہے، خواہ وہ اس میں کامیاب ہو یا نا کام۔ مگر جو کام بطور پروفیشن کیا جائے وہ اسی وقت تک جاری رہتا ہے جبکہ اس میں کامیابی حاصل ہورہی ہو۔ کامیابی نہ ہونے کی صورت میں آدمی اس کام کو جاری نہیں رکھ پاتا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ ان میں سے اکثر کے لئے ان کی ملی اور اسلامی ہم محض ایک پروفیشن ہے نہ کہ ایک مشن۔ انھوں نے اسلام کے میدان کو بطور ایک با عزت کیریر کے اختیار کیا ہے نہ کہ حقیقتاً اسلامی خدمت کے لئے۔ ۹ دسمبر ۱۹۸۳ء ایک کشمیری مثل ہے ــ آکھ ٹؤ آکھ گو کہ۔ یعنی ایک اور ایک گیارہ 'ایک ' کی گنتی اگر الگ ہو تو وہ صرف ایک ہوتی ہے۔ لیکن اگر دو 'ایک ' اکٹھا ہو جائیں تو وہ مل کر گیارہ ہو جاتے ہیں۔ یہ کشمیری مثل اتحاد کی طاقت کو بتاتی ہے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۸۳ء نیوٹن نے دیکھا کہ سیب کے درخت سے ایک پھل ٹوٹ کر گر اور وہ زمین پر آگیا۔ "سیب نیچے کیوں گرا، اوپر کیوں نہیں چلاگیا۔ اس نے سوچا۔ اس سوچ نے بالآخر اس کو اس توجیہ تک پہنچایا کہ زمین میں قوت کشش ہے اور ہر چیز زمین کی طرف کھنچ رہی ہے۔ مگر یہی کل بات نہیں۔ کیوں کہ نیوٹن کے سامنے جو درخت تھا اس کے دو حصے تھے ۔ جڑ اور تنہ۔ درخت کی جڑ زمین کے نیچے جارہی تھی اور اس کا تنہ اور شاخیں اوپر کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ گویا سیب کے درخت سے پھل یا پتی کا ٹوٹ کر زمین پر گرنا اور اس کی جڑوں کا نیچے کی طرف جانا اگر اس بات کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ زمین میں قوت کشش ہے تو دوسری طرف درخت کے تنہ کا اوپر کی طرف جانا اس نظریہ کی تردید کر رہا تھا۔ مگر نیوٹن نے کچھ چیزوں کو لیا اور کچھ چیزوں کو حذف کیا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ ایک ایسی حقیقت کو دریافت کرے جس کے ذریعہ سے پورے نظام شمسی کی توجیہ کرنا اس کے لئے ممکن ہو۔ یہ حذف (elimination) کا طریقہ موجودہ دنیا میں کسی قابلِ عمل نتیجہ تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے۔ اگر آپ حذف کا طریقہ اختیار نہ کریں تو آپ ہمیشہ انتشار ذہنی کا شکار رہیں گے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page