ڈائری
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
جاری رہے کہ تبلیغ کے بغیر اسلام کی تبلیغ ہوتی رہے۔ اگرچہ عمل تبلیغ کی اہمیت باقی ہے اور اس کے لیے بے پناہ ثواب کا امکان بدستور موجود ہے، مگر بعد کے حالات کے نتیجہ میں ایسا ہو چکا ہے کہ مسلمان اگر تبلیغ کی ایجابی کوشش نہ کریں، وہ صرف اتنی کریں کہ تبلیغی عمل کو روکنے والے سلبی عمل سے باز رہیں، تب بھی اسلام برابر پھیلتا رہے گا۔ اس کا سیلاب رکنے والا نہیں۔ اسلام کے زیر اثر دنیا میں سائنسی انقلاب آیا۔ اس نے قدیم تو ہماتی نقطہ نظر کو ختم کرکے علمی نقطہ نظر پیدا کیا۔ ہر آدمی کے اندر فطری طور پر خدا اور مذہب کی تلاش کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ قدیم ماحول میں یہ فطری جذبہ مذہبی تعصب اور آبائی تقلید کے نیچے دبا رہتا تھا، اب آزادی خیال کا دور ہے۔ اب ہر آدمی آزاد ہے کہ وہ کھلے غور وفکر کے ذریعہ کوئی رائے قائم کرے۔ تاریخی تحقیقات نے اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوسرے تمام مذاہب محض روایات پر قائم ہیں، وہ ٹھوس تاریخی بنیاد سے محروم ہیں، جب کہ اسلام مکمل طور پر ثابت شدہ مذہب ہے، وہ تاریخی معیار پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ وغیرہ۔ اس طرح کی مختلف چیزیں ہیں جنھوں نے اسلام کے اندر ایک ذاتی زور پیدا کر دیا ہے، وہ انسان سے اپنی صداقت اپنے آپ منواتا ہے۔ مسلمان اگر باقاعدہ دعوت و تبلیغ کا کام کریں تو انھیں بے انتہا ثواب اور انعام ملے گا۔ لیکن اگر وہ اتنا بھی کریں کہ وہ سلبی کارروائی سے باہر رہیں تو اسلام کی اشاعت کے لیے یہی کافی ہے ۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے سلبی کارروائی بہت بڑے پیمانہ پر انجام دی ہے۔ انھوں نے دیگر اقوام کے مقابلہ میں ایسی تحریکیں چلائیں جس کے نتیجہ میں مسلمانوں اور دوسری قوموں میں نفرت اور تناؤ کی فضا پیدا ہو گئی۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم ہے، کیوں کہ اس فضا نے اسلام کی اشاعت کے عمل کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ ۲۹ جنوری ۱۹۸۳ پہلے میں سوچتا تھا کہ موجودہ زمانہ میں تبلیغ دین کا کام نہیں ہو رہا ہے ۔ بالفاظ دیگر، الہامی شریعت سے لوگوں کو واقفیت نہیں۔ پھر آخرت میں کس بنیاد پر ان کا حساب لیا جائے گا۔ مگر آجکل بگاڑ کا جو حال ہے اس نے مجھے اس سوال کا جواب دے دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader