Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کسی بامعنی نظریہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ بہت سے لوگ شعبان کی پندرہ تاریخ کو حلوہ پکاتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت شہید ہوا تھا اور اسی بنا پر کوئی سخت چیز کھانے کے بجائے آپ نے حلوہ تناول فرمایا۔ یہ بات تاریخ کے بالکل خلاف ہے۔ کیوں کہ محدثین اور ارباب سیر کے اتفاق کے مطابق آپ کا دانت غزوہ احد میں شہید ہوا تھا اور غزوہ احد شوال (۳ھ) میں پیش آیا ہے نہ کہ شعبان میں۔ نیز اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس دن آپ نے حلوہ نوش فرمایا تھا۔ دانت شہید ہونے کے واقعہ سے حلوہ کھانے کی سنت تو نکال لی گئی۔ مگر کسی کو اس سے دلچسپی نہیں کہ یہ بھی معلوم کرے کہ وہ کونسا فرض تھا جس کی ادائیگی کے لئے آپ نے اتنی سرگرمی دکھائی کہ آپ کے دانت تک شہید کر دئے گئے۔ یہ دین داری نہیں، دین کے نام پر نفس پرستی ہے۔ ۱۲ دسمبر ۱۹۸۳ زندگی کا یہ المیہ کیسا عجیب ہے کہ ایک شخص کو صرف پچاس سال تک اس دنیا میں رہنے اور کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ یہاں اپنی زندگی اس طرح بناتا ہے کہ اس کے ابتدائی تیس سال تعلیمی جدوجہد میں گزر جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنا عمل شروع کرتا ہے اور بیس سال کی زبردست محنت سے ترقی کی بلند ترین منزل پر پہنچتا ہے۔ عین اس وقت یہ حادثہ پیش آتا ہے کہ موت خاموشی کے ساتھ آتی ہے اور اس کو اس طرح اپنے قبضہ میں کر لیتی ہے کہ اس سے بچنے کے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ شاندار مکانات والا آدمی اچانک ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں نہ اس کے مکانات کی قیمت ہے اور نہ اس کی مکان سازی کی مہارت کی۔ انسان کی شخصیت کتنی زیادہ بامعنی ہے، مگر آخرت کو شامل کئے بغیر اس کی شخصیت کتنی زیادہ بے معنی ہو جاتی ہے۔ آپ کے سامنے ایک کرسی ہے۔ یہاں دو امکانات ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کرسی مضبوط ہو اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page