ڈائری
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو سکتا ہے کہ آپ کے بیٹھتے ہی کرسی ٹوٹ جائے۔ منطقی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ دونوں امکانات کو یکساں درجہ دیں اور کرسی پر نہ بیٹھیں ۔ تا ہم اب بھی بات ختم نہیں ہوتی۔ یہی شبہ آپ کو اس چھت کے بارے میں کرنا پڑے گا جس کے نیچے آپ کرسی کو چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں ۔ یہاں بھی اگر ایک طرف یہ امکان ہے کہ چھت قائم رہے تو دوسری طرف یہ امکان ہے کہ چھت گرپڑے۔ اب آپ شبہ میں پڑکر گھر کے باہر آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی بدستور آپ کے لئے دو امکانات موجود ہیں۔ ایک یہ کہ زمین پر سکون رہے ، دوسرے یہ کہ زمین میں بھونچال آجاۓ ۔ اب اگر آپ خشکی کو چھوڑ کر سمندر کے کنارے پہنچیں اور کشتی میں بیٹھنا چاہیں تو یہاں بھی دو امکانات کا مسئلہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا ۔ کیوں کہ اگر ایک طرف یہ امکان ہے کہ سمندر آپ کے لئے موافق رہے تو دوسری طرف یہ امکان بھی ہے کہ خوف ناک موجیں اٹھ کر کشتی کو غرق کر دیں۔ تشکیک عملی طور پر نا ممکن ہے۔ اس لئے ہر معاملہ میں ہم افادی نقطہ نظر (pragmatism) کا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ یہی طریقہ ہم کو زندگی کے وسیع تر اور ابدی معاملہ میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔ ۱۴ دسمبر ۱۹۸۳ ہندوستان کی مسلم صحافت اور مسلم قیادت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ انگریز دشمنی " یاہند خطرہ کی بنیاد پر ابھری۔ نتیجہ یہ ہے کہ اپنے آغاز ہی سے اس کا انداز منفی ہے۔ شروع سے اب تک تقریباً بلا استثناء مسلمانوں کی صحافت اور قیادت پر سطحی جذباتیت کا اندازہ غالب رہا ہے۔ ایک لفظ میں ہندوستانی مسلمانوں کی صحافت زرد صحافت (Yellow Journalism) ہے اور ان کی سیاست زرد سیاست (Yellow Politics) - اس قسم کی صحافت اور سیاست کسی قوم کو صرف مریض بناسکتی ہے ، اور وہی اس نے عملاً انجام دیا ہے۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۸۳ خالق کائنات کا معاملہ بے حد عجیب ہے۔ وہ انتہائی حد تک ظاہر ہونے کے باوجود انتہائی حد تک مستور ہے۔ شدت احساس کے تحت کبھی کبھی مجھے خیال آنے لگتا ہے کہ آج کی دنیا میں شاید کوئی ایک شخص بھی نہ ہو جو واقعی معنوں میں خالق کی ہستی کا یقین رکھتا ہو۔ خالق کے وجود میں روایتی عقیدہ رکھنے والے تو بے شمار نظر آتے ہیں، مگر خالق کے وجود میں زندہ یقین رکھنے والا شاید کوئی نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader