ڈائری
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان جیسی ایک مخلوق کو پیدا کر کے دنیا میں آباد کر دیا اور اس کو اس امتحان میں ڈالاکہ وہ ایک بظاہر نا قابلِ یقین حقیقت پر یقین کرے۔ تاکہ خدا اس کو آخرت میں وہ نعمتیں عطا کرے جو ناقابلِ یقین حد تک با معنی اور لذت پر رہیں ۔ ۱۶ دسمبر ۱۹۸۳ء محمد عثمان (پیدائش ۱۹۳۳ء) گیا (بہار) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ مولانا عبید اللہ سندھی آخر عمر میں کہا کرتے تھے کہ جو تجربہ مجھ کو اس وقت ہے ، اگر جلا وطنی سے پہلے مجھ کو وہ تجربہ حاصل ہوتا تو میں انگریزوں سے لڑائی مول نہ لیتا ۔ کیوں کہ مسلمانوں میں ابھی کرنے کے اتنے کام ہیں کہ وہ بغیر لڑائی کے کئے جاسکتے ہیں ۔ یہی موجودہ زمانہ میں تقریباً اُن تمام لوگوں کا حال ہوا ہے جن کو ”اکا برمت“ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنی آخر عمر میں مایوسی کا شکار ہوا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ اپنی جوانی کی عمر میں محض ردّعمل کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اگر وہ عمر کی پختگی کے بعد سوچ سمجھ کر اپنے عمل کا نقشہ بناتے تو وہ آغاز عمر میں ہی کرتے جو انھوں نے اختتام عمر میں کر نا چاہا پا گر کرنے سے معذور رہے ۔ ۱۷ دسمبر ۱۹۸۳ء ایک سیاسی مبصر کا قول ہے کہ بڑے لیڈر اکثر کسی بڑی مصیبت کی پیداوار ہوتے ہیں اور اپنے بعد کوئی بڑی مصیبت چھوڑ جاتے ہیں : Great leaders are often the products of catastrophes and the architects of catastrophes. یہ وہ لیڈر ہیں جنفی نعروں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ جب کوئی قوم کسی مصیبت ، خاص طور پر کسی کے ظالمانہ سلوک سے دوچار ہوتی ہے تو منفی نعروں پر اٹھنے والے عمائدین کے لئے یہ بہترین وقت ہوتا ہے ۔ وہ پر جوش تقریریں کر کے فوراً عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ گرمسنی نعروں پر کھڑے ہونے والے لیڈر اس کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیتے کہ وہ قوم کو ایک گڑھے سے بچانے کے نام پر دوسرے گڑھے میں گرادیں۔ لیڈر کی ترقی اکثر حالات میں قوم کی بربادی کی قیمت پر ہوتی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader