Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

”اللہ کی قسم اتنی اچھی اڑ رہی ہے گڈی ۔ “ مسلمان لڑکے نے کہا۔ ہندو لڑکا بولا ”بھگوان کی قسم ایسی اچھی اڑتی ہوئی گڈی میں نے نہیں دیکھی۔ عیسائی لڑکے نے کہا ”اوئی گاڈ ، کمال کی گڈی ہے یہ۔ “ آجکل کے زمانہ میں مذہب کی حقیقت بس یہی ہے۔ آج ہر آدمی اصلاً کوئی نہ کوئی ”گڈی“ اڑا رہا ہے۔ البتہ اسی کے ساتھ وہ مذہبی قسم بھی کھا رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قسم کھانے کے لئے کوئی شخص اللہ کا لفظ بولتا ہے، کوئی بھگوان کا اور کوئی گاڈ کا۔ ۱۹ دسمبر ۱۹۸۳ء اسلامی تربیت کے ایک اجتماع کے بعد میں نے آخری خطاب میں کہا : ہمارا تربیتی کیمپ ختم ہو گیا۔ اور اب ہم میں سے ہر شخص یہاں سے واپس روانہ ہوگا۔ مگر یاد رکھیئے ، یہاں سے جانے والا وہ ہے جو یہ سمجھے کہ وہ اپنی قبر کی طرف واپس جا رہا ہے۔ جو شخص یہ سمجھ کر یہاں سے روانہ ہو کر وہ اپنے گھر کی طرف واپس جا رہا ہے، وہ گویا کہیں نہیں جا رہا ہے۔ کیوں کہ ہم میں سے ہر شخص کے آگے جو چیز ہے وہ گھر نہیں ہے بلکہ قبرستان ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اپنے گھروں کو نہیں بلکہ اپنی قبروں کو واپس جا رہے ہیں ـــ اسی حقیقت کو جاننے کا نام علم ہے، اور اسی حقیقت کو نہ جاننے کا نام بے علمی۔ موت کا سنگین ترین پہلو یہ ہے کہ اس کے بعد آدمی ان تمام امکانات سے کٹ جاتا ہے جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اسے حاصل ہیں ، حتی کہ امکان تو بہ سے بھی۔ ۲۰ دسمبر ۱۹۸۳ء مولانا منت اللہ رحمانی (امیر شریعت، بہار) ۲۳ دسمبر ۱۹۸۳ء کو دہلی میں تھے۔ جمعیت بلڈنگ میں ” ادارۃ المباحث الفقہیہ “ کے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ایک بات کہی جس کو میں نے انھیں کے قلم سے ایک کاغذ پر لکھوا لیا۔ اس کی نقل یہ ہے : ”مولانا ابوالحسن محمد سجاد صاحب (۱۹۳۰ - ۱۸۸۳ء) نے مجھ سے کہا کہ ایک دفعہ مولانا محمد علی مونگیری (م، ۱۹۲۷ء) کی خدمت میں عرض کیا کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ جہاں جاتا ہوں اخلاص کے ساتھ جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page