ڈائری
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں اخلاص کے ساتھ جاتا ہوں۔ لیکن جب تک رہتا ہوں، لوگ دین کی طرف مائل رہتے ہیں۔ اور وہاں سے ہٹنے کے بعد لوگ بھی دین کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اخلاص کا تو اثر ہونا چاہئے۔ حضرت مونگیری نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر عصر اور زمانہ میں اپنی کسی نہ کسی صفت کے ساتھ جلوہ گر رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر القرون میں اپنی صفت " الہادی " کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ اور اس عہد میں اپنی صفت " المضل" کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اس لئے نہ ہدایت دیرپا ہوتی ہے اور نہ اخلاص مؤثر۔ جس کا نتیجہ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کا منصب ہدایت تھا، وہ گمراہ ہورہے ہیں : مولانا مونگیری نے جو بات کہی ، وہ دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اس دنیا میں فیض بقدر استعداد کا اصول کارفرما ہے۔ قرون اولیٰ کے لوگوں نے استعداد کا ثبوت دیا اس لئے وہ خدا کے انعام سے سرفراز ہوئے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان استعداد کا ثبوت نہ دے سکے اس لئے وہ خدا کے انعامات کو پانے میں بھی ناکام رہے۔ ۲۱ دسمبر ۱۹۸۳ء سقراط کا قول ہے کہ " آپ روح کا علاج کئے بغیر جسم کا علاج نہیں کرسکتے۔ " سقراط کا یہ قول معروف بیماریوں کے بارہ میں بھی صحیح ہے اور دوسرے انسانی مسائل کے لئے بھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحت مند ہونے کے لئے مریض کا اپنا ارادہ اور خواہش بھی انتہائی ضروری ہے۔ مریض اگر مایوسی کا شکار رہے تو ڈاکٹر کی سخت کوششوں کے باوجود اس کی حالت میں سدھار نہیں آسکتا۔ علاج کی کامیابی کا انحصار اگر ۵۰ فیصد ڈاکٹر پر ہے تو ۵۰ فیصد مریض پر۔ اسی طرح زندگی کے مسائل میں بھی آدمی کے ذہن کا بہت بڑا دخل ہے۔ ایک سچے رہنما کو پہلے آدمی کی سوچ درست کرنی پڑتی ہے ، اس کے بعد ہی وہ مسائل کے حل کے لئے کسی گہرے عملی منصوبہ کو زیر عمل لاسکتا ہے۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۸۳ء قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے (الیوم اکملت دینکم)، اس کا مطلب صرف احکام کی تکمیل نہیں بلکہ لوازم تاریخی کی تکمیل ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے۔ اسلام کا ظہور ، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader