ڈائری
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اس امکان کو ختم کر دیا کہ آئندہ کوئی شخص یا گروہ خدا کے دین کے ساتھ تعدی کر سکے۔ اسلام نے خدا کے دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے، وہ اپنے پیروؤں کے لئے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے۔ ۲۳ دسمبر ۱۹۸۳ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ اور اللہ نرمی پر وہ دیتا ہے جو شدت پر نہیں دیتا (ان اللہ رفيق ويحب الرفق ويعطى على الرفق مالا يعطى على العنف) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا نظریہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کڑبن کر رہو تا کہ لوگ تم سے دبیں ۔ اگر تم نرم ہو گئے تو لوگ تمہارے اوپر زیادتی کرنے لگیں گے۔ مسلمانوں کا یہ نظریہ سراسر قانون خداوندی کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار کوششوں کے باوجود مسلمان موجودہ زمانہ میں کچھ حاصل نہ کر سکے۔ ۲۴ دسمبر ۱۹۸۳ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت ایسے شخص پر نہیں آئے گی، جو اللہ اللہ کہتا ہو (لا تقوم الساعة على احد يقول الله الله) کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کا مطلب زبان سے اللہ اللہ کہنا ہے۔ گویا جب کوئی شخص اللہ کا نام لینے والا رہے گا، اس وقت قیامت برپا ہو گی ۔ مگر یہ تشریح صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں "اللہ" باعتبار معنی ہے نہ کہ باعتبار لفظ۔ اس سے مراد اللہ کا تلفظ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت لوگ اللہ کی حقیقت سے بیگانہ ہو چکے ہونگے۔ لفظ اللہ کو زبان سے دہرانے والے تو ہوں گے مگر اللہ کی معنویت ان کے دلوں میں اتری ہوئی نہ ہوگی۔ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۳ اختراٹئے پوری کی خود نوشت سوانح چھپی ہے جس کا نام ہے: "گرد راہ" اس میں مصنف نے مشہور فرانسیسی فقر سارترے کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سارترے نے ان سے پوچھا کہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے اور اس کے بعد کے پیرس میں انہیں کیا فرق محسوس ہوتا ہے۔ اختراٹئے پوری نے جواب دیا کہ آج کی زندگی میں قدروں (values) کا نام ونشان نہیں ملتا۔ یہ سن کر سارترے نے کہا: نئے انسان کی نظر میں کپڑا دھونے کی مشین قدروں سے زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader