Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

اہمیت رکھتی ہے : ایک عربی شاعر کا شعر ہے کہ جب حزام کوئی بات کہے تو اس کو مان لو، کیوں کہ بات وہی ہے جو حزام کہے : اذ قالت حزام فصدقوها فان القول ما قالت حزام بڑوں کی پرستش کا حرج لوگوں میں پہلے بھی پایا جاتا تھا، اور آج بھی پایا جاتا ہے۔ اپنے بڑے یا اپنے قبیلے کے لوگ جو کہیں اس کو صحیح سمجھ لینا۔ خواہ اس کے حق میں دلیل موجود نہ ہو۔ مگر یہ سراسر جاہلیت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہر بات کو دلائل پر جانچا جائے۔ ہر اس بات کو رد کر دیا جائے جو دلیل کی کسوٹی پر پوری نہ اترے۔ اور صرف اسی بات کو مانا جائے جو دلیل کی سطح پر ثابت ہو رہی ہو۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۸۳ ایک صاحب نے کہا کہ خدا نے پیغمبروں کو تمام حقیقتیں براہ راست دکھادیں، اور ہم کو غیب میں رکھا۔ اگر ہم کو بھی تمام چیزیں دکھادی گئی ہوتیں تو ہم دنیا میں زیادہ یقین کے ساتھ جی سکتے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے ہم گویا سیف سائیڈ (safe side) میں ہیں۔ پیغمبر "مومن شاہد" ہوتا ہے، اس لئے اس کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے کہ پیغمبر اگر ذرا بھی انحراف کرے تو اس کے لئے دگنا پڑتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عام لوگوں کی حیثیت "مومن غائب" کی ہے، اس بنا پر ان کے لئے معافی اور درگزر کا دروازہ بہت زیادہ وسیع ہے۔ ۲۸ دسمبر ۱۹۸۳ امام حسین کے بارہ میں آج لوگوں کو صرف ایک بات معلوم ہے۔ یہ کہ وہ "شہید اعظم" تھے۔ مگر قدیم زمانہ میں ایسا نہ تھا۔ علامہ ابن تیمیہ نے امام حسین کے حادثہ کی بابت تین رایوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک وہ گروہ جو امام موصوف کو امام معصوم کہتا ہے اور ان کو واجب الاطاعت ثابت کرتا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو امام موصوف کے کیس کو بغاوت اور امت میں انتشار پیدا کرنے کا کیس سمجھتا ہے۔ اس بنا پر وہ ان کو مجرم ٹھہرا کر ان کے قتل کو جائز قرار دیتا ہے۔ تیسرا گروہ ان دونوں رایوں کو غیر معتدل بتاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page