ڈائری
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے نزدیک معتدل مسلک یہ ہے کہ ان کے معاملے کو محل طور پر مظلوم شہادت کا معاملہ مانا جائے (منہاج السنة) موجودہ زمانہ میں جو بے شمار خرابیاں ہیں، اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہے کہ متاخرین نے متقدمین کے مسلک کو چھوڑ دیا۔ ۲۹ دسمبر ۱۹۸۳ اسلامی انقلاب کے تین مرحلے ہیں۔ (۱) تبدیلی فرد۔ (۲) تبدیلی شاکلہ۔ (۳) تبدیلی حکومت۔ اسلامی تحریک اولاً فرد کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ یعنی فرد کو اللہ سے ڈرنے والا بنانا اور اس کے اندر یہ احساس ابھارنا کہ وہ اپنے اعمال کے لئے آخرت میں جواب دہ ہے۔ اس کے بعد دوسرا کام زمانی شاکلہ کو بدلنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو فکری انقلاب کہا جاسکتا ہے۔ عمومی سطح پر غیر اسلامی افکار کے مقابلہ میں اسلامی فکر کو وہی غلبہ حاصل ہو جائے جیسا کہ موجودہ زمانہ میں شہنشاہیت کے مقابلہ میں جمہوریت کو حاصل ہے۔ یہ دو کام جب قابل لحاظ مقدار میں ہو چکے ہوں، اس کے بعد ہی انسانی معاشرہ میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔ مذکورہ دونوں کام کو انجام دئے بغیر اگر کسی ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ مشکوک خیز نا کامی کے سوا کسی اور انجام تک نہیں پہنچ سکتى۔ ۳۰ دسمبر ۱۹۸۳ اسلام میں تلقین کی گئی ہے کہ جب موت کا وقت آئے تو آدمی اپنی زبان سے کلمہ توحید کا اقرار کرے۔ یہ " کلمہ پڑھنا" اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جیسے پنڈت لوگ منتر پڑھتے ھیں یا پڑھنواتے ہیں۔ یہ دراصل آدمی کے آخری اندرونی احساسات کا ایک اظہار ہے۔ ایک مومن پر جب آخری وقت آتا ہے تو اس کو شدید احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی اکارت چلی گئی ۔ خدا کے سامنے پیش کرنے کے قابل کوئی کام وہ نہ کر سکا۔ اس وقت اس کے دل کی بے قراری چاہتی ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے اعمال نامہ میں کوئی آخری چیز ریکارڈ کرا دے۔ اس کے دل کی یہی بے قراری ہے جو کلمہ کی صورت میں نکل پڑتی ہے۔ کلمہ کے الفاظ بول کر گو یا مرنے والا یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا، میں کوئی عمل تو پیش نہ کر سکا۔ البتہ میں اپنا اعتراف تیری خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader