Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ہے شرعی بنیاد ، اور ایک ہے اخلاقی بنیاد ۔ شرعی بنیاد مقدس کتاب کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔ مگر اخلاقی بنیاد خود اپنی ضمیر اور عقل کے ذریعہ لوگوں کو پیشگی طور پر معلوم ہے۔ آج کل یہ خیال ہے کہ تمام اخلاقی حدیں لوٹ گئی ہیں۔ ہر آدمی اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جس طرح چاہے ہے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر مجھے خیال آتا ہے کہ شرعی بنیاد تو درکنار ، لوگ اخلاقی بنیاد ہی پر اپنے آپ کو ڈسکر یڈیٹ کر رہے ہیں۔ آج کا انسان جس لوٹ کھسوٹ اور جس بددیانتی اور بے انصافی میں مبتلا ہے ، اس کا برا ہونا اس کو خود اپنے ضمیر اور اپنے شعور کے تحت پوری طرح معلوم ہے ، اب اگر اس کو شرعی بنیاد کا سلم نہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیوں کہ جب بنیاد اس کو اچھی طرح معلوم ، اسی بنیاد پر وہ اپنے آپ کو مجرم ثابت کر چکا ہے۔ اس انسان کو اگر خدا پکڑلے تو وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ آپ ہم کو اس چیز کے لئے پکڑ رہے ہیں جس کا ، ہمیں کوئی علم نہ تھا۔ ۳۰ جنوری ۱۹۸۳ حدیث کا مطالعہ امت میں جتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا ، اتنے بڑے پیمانہ پر قرآن کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ مگر حدیث کا وہ عملی فائدہ امت کو نہ پہنچ سکا جو امت کو اس سے پہنچنا چاہئے تھا ۔ اس کی کم از کم ایک خاص وجہ یہ ہے کہ احادیث میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ امت کے علماء چونکہ ان اختلافات میں تطبیق کا کوئی متفقہ معیار دریافت نہ کر سکے ، اس لئے حدیث کا مطالعہ بہت بڑے پیمانہ پر اختلافات پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ حدیث کے اختلافات میں تطبیق کا میرے نزدیک واحد قابلِ عمل معیار یہ ہے کہ اس کو حالات کے اختلاف پر محمول کیا جائے ۔ یعنی یہ مانا جائے کہ انسانی حالات چونکہ ہمیشہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں ، اس لئے حد یثوں میں بھی اختلاف پیدا ہو گیا ۔ کیوں کہ حد یثیں زیادہ تر وہ نصیحتیں ہیں جو مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف اوقات میں لوگوں کو دی گئیں۔ ایک مثال لیجئے ۔ آپ اگر حدیث کی کتابوں میں " اشربہ " کا باب پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ مختلف روایتوں میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے ۔ مثلاً بخاری اور دوسری کتبِ حدیث میں یہ روایتیں موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پیا ، اسی طرح صحابہ کرام نے کھڑے ہو کر پانی پیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page