ڈائری
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم جنوری ۱۹۸۴ء پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمنوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے برطانی فوجیوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے متعلقین کے نام خط لکھیں اور اس میں یہ بتائیں کہ وہ جنگی قیدی ہونے کے باوجود جرمنی میں بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ جرمن قید میں پوری طرح مطمئن ہیں۔ برطانی فوجیوں سے جو کچھ کہا جاتا اس کو وہ بے چون و چرا لکھ دیتے ۔ مگر خط کے آخر میں ہمیشہ یہ جملہ بڑھا دیتے : Tell this to the marines. اس انگریزی فقرہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” یہ بحریہ والوں کو بھی بتادیا جائے ۔“ جرمنوں نے اس فقرہ کو اس کے ظاہری مفہوم میں لے کر سمجھا کہ اس اضافہ سے کوئی حرج نہیں، کیوں کہ یہ اضافہ ان کی مزید پبلسٹی کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ لیکن اصل معاملہ اس کے برعکس تھا۔ یہ جملہ پرانی انگریزی بول چال میں محاورہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ کہا گیا ہے اس کو سنجیدگی سے نہ لیں۔ مگر جرمن اس کے اس مفہوم سے ناواقف تھے۔ اس لئے بطور خود تو وہ سمجھتے رہے کہ برطانی قیدیوں کے بارہ میں وہ خیریت کی خبران کے وطن بھجوا رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت کے اعتبار سے وہ خیریت کی تردید بھجوارہے تھے۔ جانتے اور نہ جانے میں کتنا زیادہ فرق ہوتا ہے۔ ۲ جنوری ۱۹۸۴ء طبیعیات اور فلکیات دونوں مشترک طور پر کائنات کے بارے میں جو پیشین گوئی کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ کائنات بالآخر موت سے دوچار ہونے والی ہے۔ جیمس جینز کے الفاظ میں ۔۔۔۔۔۔ کائناتی موت کے سوا اس سفر کا کوئی دوسرا ممکن انجام نہیں: End of the journey cannot be other than universal death. یہ کائناتی موت کچھ سائنس دانوں کے نزدیک حرارتی موت (Heat death) کی صورت میں پیش آئے گی۔ یعنی سورج اور دوسرے اجسام اپنی حرارت کھودیں گے۔ ہماری دنیا میں ایک طویل برفانی دور (Ice age) شروع ہوگا جو انسان جیسی ہر زندگی کو ختم کر دے گا۔ موجودہ دنیا میں زندگی کا مظہر ایک عجیب و غریب مظہر ہے جس کی توجیح کرنے میں جدید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader