ڈائری
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
علماء سخت حیرانی میں مبتلا ہیں۔ کریسی ماریسن نے زندگی کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ زندگی کہاں سے آتی، زندگی کہاں جارہی ہے، سائنس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں: Whence life comes, where life goes, science answers not. اس قسم کی باتیں جو ایک آدمی سائنس میں پڑھتا ہے وہ اس وقت تک صرف ذہنی الجھاوے میں جب تک ان کے ساتھ پیغمبر کی بات کو شامل نہ کیا جائے۔ پیغمبر کی بات کو شامل کرتے ہی یہ تمام باتیں ایک کل کا مجموعہ بن جاتی ہیں، وہ آدمی کو شک سے نکال کر یقین کے مقام تک پہنچادیتی ہیں۔ اب کائنات کی موت ایک نئی وسیع تر زندگی کا آغاز بن جاتی ہے اور زندگی اس وسیع تر دنیا کی طرف بامعنی سفر۔ ۳ جنوری ۱۹۸۴ مصری لطیفہ بتانے کے ماہر ہیں۔ فوجی حکومت کے بعد جب پریس پر پابندیاں عائد ہو گئیں اور لوگوں کے لئے باقاعدہ شکل میں اظہارِ خیال کا موقع نہیں رہا تو مصر کے لوگ لطیفوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگے۔ مصر کے ایک صاحب نے اس سلسلہ میں ایک لطیفہ بتایا جو ۱۹۶۵ کی جنگ کے بعد بنایا گیا تھا۔ ۱۹۶۵ کی جنگ میں اسرائیل کے مقابلہ میں مصر کو شکست ہوئی تھی۔ مصریوں نے لطیفہ بنایا کہ ایک بار مصر میں اسرائیل کی سلطنت قائم ہوگئی۔ جمال عبد الناصر اور جنرل عبد الحکیم کے لئے کوئی کام نہیں رہا۔ چنانچہ دونوں نے مل کر ایک ہوٹل کھول دیا۔ ایک روز جنرل موشے دایان قاہرہ کی سڑکوں پر گھومتا ہوا مذکورہ ہوٹل میں آگیا۔ اس نے ہوٹل میں داخل ہوکر مخ (بھیجہ کا سینڈوچ) مانگا۔ ناصر نے اس سے کہا: ما عندنا ش مخ ، عندنا لسان بس۔ ہمارے پاس بھیجہ (کا سینڈوچ) نہیں، ہمارے پاس صرف زبان (کا سینڈوچ) ہے۔ یہ لطیفہ موجودہ زمانہ میں پوری مسلم دنیا پر صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہر مسلم ملک میں کثرت سے قائدین پیدا ہوئے۔ مگر ہر ایک بس صاحبِ لسان تھا، صاحب فہم ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader