ڈائری
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
بلا شبہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بر بادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ مسلمانوں نے دورِ اول میں جب فلسطین پر قبضہ کیا اس وقت فلسطین اور شام کے عیسائی اس مسئلہ پر بحث کر رہے تھے کہ مسیح کا فضلہ پاک تھا یا نا پاک۔ یہی بات بعد کے زمانہ میں خود مسلمانوں کے ساتھ پیش آئی۔ عباسی دور کے آخر میں جب تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا اس وقت بغداد کے علماء اس بحث میں مصروف تھے کہ علی افضل ہیں یا معاویہ۔ کتنی مماثلت ہے دونوں واقعات میں۔ قوم کے زندہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے اہل علم نتیجہ خیز باتوں میں بحث کرتے ہوں ۔ جب قوم کے اہل علم بے فائدہ باتوں میں بحث کرنے لگیں تو سمجھ لیجئے کہ قوم مر چکی ہے۔ زندہ لوگ زندہ معاملات پر گفتگو کرتے ہیں اور مردہ لوگ مردہ معاملات پر ۔ ایک صاحب کے غیر ضروری سوالات پر میں نے یہ باتیں ان سے کہیں ۔ وہ خاموش ہو گئے۔ ۵ جنوری ۱۹۸۴ امیر معاویہ نے اپنی زندگی ہی میں اپنے لڑکے یزید کی خلافت کے لئے بیعت لے لی تھی۔ چنانچہ ان کی وفات کے بعد یزید کو خلیفہ بنا دیا گیا۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن عباس مکہ میں تھے۔ مکہ میں خبر پہنچی تو لوگ اس معاملہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کا تاثر جاننے کے لئے ان کے پاس جمع ہو گئے۔ اس موقع پر حضرت عبداللہ نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: وأن ابنه يزيد لمن صالحي أهله فالتزموا مجالسكم واعطوا طاعتكم وببيعتكم۔ بلاذری: انساب الاشراف، قسم ۲، صفحہ ۲، یروشلم ۱۹۳۰ ان کا لڑکا یزید ان کے لائق اہل خانہ میں سے ہے لہٰذا تم اپنی جگہ بیٹھے رہو اور اپنی طاعت اور بیعت اس کو دے دو۔ حضرت عبداللہ کا یہ قول یزید کی موافقت سے زیادہ لوگوں کو اس کی مخالفت سے روکنے کے لئے تھا۔ اسی طرح محمد بن حنفیہ نے یزید کے بارے میں کلمہ خیر کہہ کر لوگوں کو بغاوت سے روکنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader