Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

کی کوشش کی ۔ حکمرانوں کے بارے میں صحابہ و تابعین کا یہی طریقہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ یہ سیاسی بدعت وجود میں آئی ہے کہ حکمرانوں سے ٹکراؤ کو اصل دینی کام سمجھ لیا گیا ہے۔ سورہ الشوریٰ کی ایک آیت ہے جو قرآن میں اس طرح لکھی جاتی ہے : ويمحُ الله الباطل ويحق الحق بكلمته یہ اصل يمحو ( واؤ کے ساتھ ) ہے۔ مگر پہلی بار جب قرآن لکھا گیا تو اس وقت قرآن کے کاتبین نے اس کو واؤ کے بغیر یمح لکھا۔ چنانچہ بعد کے تمام مصاحف میں وہ اسی طرح نقل ہوتا رہا۔ اور آج بھی وہ اسی طرح چھپتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں يدع الانسان ( الاسرار ۱۱ ) ہے۔ یہاں بھی وہ دراصل يدعو ( واؤ کے ساتھ ) ہے۔ مگر ابتدائی نسخہ میں چونکہ وہ واؤ کے بغیر لکھا گیا تھا اس لئے آج بھی وہ اسی طرح لکھا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کو اس کی ابتدائی صورت میں محفوظ رکھنے کے لئے کتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے۔ انسان کی عقل اور نحو کا علم کہتا ہے کہ اس کو یمحو اور یدعو لکھو مگر لوگوں نے قرآن میں کسی بھی قسم کا فرق یا تبدیلی نہیں کی۔ وہ آخری شوشہ کی حد تک اس کی ابتدائی صورت میں اس کو محفوظ کرتے رہے۔ قرآن کے کتاب محفوظ ہونے کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے۔ ۷ جنوری ۱۹۸۳ موجودہ زمانہ کے علماء جن چیزوں کی کھوج میں ہیں ان میں سے ایک بالاتی تہذیب ہے۔ زمین پر انسانی تہذیب کے علاوہ کیا بالاتی خلا میں کوئی اور تہذیب ہے جو ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ پچھلے ۲۵ برسوں کے سائنسی مطالع نے کافی حد تک یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ کائنات میں ہمارے علاوہ دوسری " ٹیکنکل سولائزیشن " بھی ہوسکتی ہے۔ اس قیاس کی وجہ یہ ہے کہ جدید علم اکو کائنات میں ماورائی ذہانت (Extraterrestrial intelligence) کے آثار ملے ہیں۔ ان آثار کا نتیجہ یہ ہونا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page