ڈائری
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہئے تھا کہ خدا کے وجود پر لوگوں کی یقین بڑھتا۔ مگر غیر خدا پرستانہ ذہن کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ ماورائی ذہانت کو انسانی ذہانت سمجھ رہے ہیں۔ جو چیز حقیقتاً خدا کا وجود ثابت کر رہی ہے اس کو اس معنی میں لے رہے ہیں کہ کائنات میں کسی سیارہ پر انسانی تہذیب جیسی کوئی اور تہذیب موجود ہے۔ حالانکہ کائنات میں ” ذہانت “ کے آثار ملنا اور ذہانت کا نظر نہ آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر انسانی ہے، وہ غیر مرئی ہے نہ کہ انسان کی طرح مرئی۔ ۸ جنوری ۱۹۸۲ مجھے پنچرے سے بے پناہ دل چسپی ہے۔ ایک پتی کو دیکھ کر میرے اندر موج (thrill) پیدا ہوتا ہے۔ ایک پتی کے اندر جو کاریگری ہے وہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تمام انجینرنگ سے زیادہ عظیم ہے۔ ایک بار میں نے دہلی کی ایک لائبریری میں نیویارک سے نکلنے والا میگزین لائف (Life) دیکھا۔ یہ جون ۱۹۸۰ء کا شمارہ تھا۔ اس کے صفحہ ۷۰ پر ایک اشتہار تھا۔ اس اشتہار میں انگور کے خوشہ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ یہ تصویر بالکل نیچرل رنگ میں تھی اور بے حد کامیاب تھی اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کاغذ کے صفحہ پر سچ مچ انگور کا خوشہ رکھا ہوا ہے۔ انگور کے خوشہ کی اس کامیاب تصویر کو میں لائبریری میں بہت دیر تک دیکھتا رہا۔ پھر بھی طبیعت سیر نہ ہوئی۔ واپس آکر میں نے اپنے پڑوسی سر حسن عسکری سے کہا کہ آپ لائف میگزین کا جون ۱۹۸۰ء کا شمارہ کہیں سے حاصل کر کے لے آئیے۔ وہ کناٹ پلیس میں کتاب کی دکانوں پر تلاش کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دکان دار کے یہاں ان کو وہ شمارہ مل گیا۔ انھوں نے مجھے رپورٹ دی کہ دکاندار اس شمارہ کے ۲۵ روپیہ مانگتا ہے۔ میں نے اسی وقت ان کو ۲۵ روپیہ دئے اور کہا کہ اس کو دکان دار سے خرید لیجئے۔ لائف کا یہ شمارہ میں بہت دن تک اپنی میز کی دراز میں لکھے رہا اور انگور کے خوشہ کی اس تصویر کو دیکھتا رہا۔ اس تصویر میں میں آرٹسٹ کا کمال نہیں دیکھتا تھا بلکہ مجھے اس کے اندر خدا کی تخلیق کا کمال دکھائی دیتا تھا۔ اس میں مجھے مخلوق کے روپ میں خالق نظر آتا تھا۔ اسی بات کو کسی شاعر نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے: ہر اورتے دفتر نیست معرفت کردگار۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader