ڈائری
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ میں پیغمبروں کی اتنی شدید مخالفت کیوں کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پیغمبر اور دعاة دور شرک میں پیدا ہوتے۔ اس وقت تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا تھا۔ جب کوئی چیز تاریخ پر اتنا چھا جائے کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو جائے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پہلے انسانی گروہ ہیں جنہوں نے تاریخ کے اس تسلسل کو توڑا۔ انھوں نے شرک کا رشتہ انسانی تاریخ سے منقطع کیا۔ یہ ایک انتہائی مشکل کام تھا اور اسی مشکل کام کو انجام دینے کی وجہ سے وہ " خیرامت" کے مستحق قرار پائے۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران یہ تفصیلات پیش کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ مسلمان بحیثیت قوم " خیرامت " ہیں۔ مگر میں اس کو نہیں مانتا۔ میرے نزدیک صحابہ کرام (بنو اسماعیل) خیرامت تھے۔ ہم لوگ صرف ان کے متبع ہونے کا کریڈٹ پاسکتے ہیں بشرطیکہ ہم ان کا اتباع کریں۔ خیر امت نسلی مسلمانوں کا لقب نہیں ہے۔ خیر امت ان لوگوں کی صفت ہے جنھوں نے اپنے آپ کو فی الواقع اس کا مصداق ثابت کیا۔ صحابہ کرام اس کا مصداق اول تھے۔ اب اگر کوئی گروہ اس کا مصداق ثانی بننا چاہے تو وہ صحابہ کرام جیسا بننے کی کوشش کرے۔ ۱۰ جنوری ۱۹۸۲ الجمعیۃ وکیل کی ادارت کے زمانہ میں ایک بار مجھے دارالعلوم دیوبند جانا پڑا۔ وہاں مجھے النادی الادبی کے سالانہ جلسہ کی صدارت کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس موقع پر دارالعلوم میں میری چند تقریریں ہوئیں۔ ایک تقریر میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہمارا اصل مسئلہ افراد کار کا مسئلہ ہے۔ دین کے احیاء کے لئے آج زبردست مواقع کھل گئے ہیں۔ مگر وہ آدمی نہیں ملتے جن کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ ابھی میری تقریر جاری تھی کہ حاضرین میں سے ایک نوجوان اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader