Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

”میں آپ کے مشن کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں۔ آپ جس طرح چاہیں مجھے استعمال کریں“۔ میں نے نوجوان کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ میں آپ کی اس پیش کش کی قدر کرتا ہوں۔ البتہ میں اس میں اتنی ترمیم کر رہا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو آج پیش کرنے کے بجائے ایک مہینے کے بعد پیش کریں۔ آپ ایک مہینہ کے بعد مجھے خط لکھیں اور اس میں وہ الفاظ تحریر فرمائیں جو اس وقت آپ نے اپنی زبان سے ادا کئے ہیں۔ اس کے بعد میں دہلی واپس آگیا۔ ایک مہینہ گزر گیا مگر مذکورہ طالب علم کا کوئی خط نہیں آیا۔ ایک کے بعد ایک مہینے گزرتے رہے یہاں تک کہ سال پورا ہوگیا مگر طالب علم کا کوئی خط مجھے نہیں ملا۔ اب اس واقعہ کو ۵ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں مگر میرے انتظار کی مدت ابھی تک ختم نہ ہوسکی۔ یہ چھوٹا سا واقعہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تصویر ہے۔ وقتی جوش کے تحت فوری طور پر وہ بڑی بڑی پیش کش کر سکتے ہیں، مگر مستقل طور پر کسی سنجیدہ کام میں اپنے آپ کو لگانا نا ان کے بس کی چیز نہیں۔ اور بلا شبہ کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔ ۱۱ جنوری ۱۹۸۴ ایک صاحب ہیں ۔ ان کی اعلیٰ تعلیم لندن میں ہوئی۔ پھر انھیں ہندوستان میں ایک اچھی ملازمت مل گئی۔ اب وہ یہاں کے ایک مرکزی شہر میں رہتے ہیں۔ مذکورہ بزرگ کو ایک شخص نے ایک انگریزی مضمون نظر ثانی کے لئے بھیجا۔ اس میں ہندوستان ٹائمز کا ایک اقتباس بھی شامل تھا۔ نظرثانی کے بعد جب مضمون واپس آیا تو اس کے ساتھ ان کا حسب ذیل نوٹ شامل تھا : The quotation from the HT is too badly worded to be used intact. So I have re-phrased it, but not as a quotation. یہ بات اردو میں کہنا ہو تو اس کو اس قدر سادہ اور بندھے ہوئے الفاظ میں نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان ہمیشہ استعمال سے بنتی ہے۔ اردو زبان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو شاعروں اور خطیبوں نے بنایا۔ اس لئے اس کے اوپر غیر حقیقی اسلوب چھا گیا۔ اس کے برعکس انگریزی زبان موجودہ زمانہ میں سائنس کے ماحول میں بنی اور سائنس میں آدمی مجبور ہوتا ہے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page