Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

سادہ اور متین زبان استعمال کرے۔ سائنس میں مصنوعی زبان یا مبالغہ آمیز اسلوب میں کوئی بات کہنا ممکن نہیں۔ اردو زبان کی بدقسمتی شاعر لوگ ہیں اور انگریزی زبان کی خوش قسمتی سائنس داں لوگ۔ ۱۲ جنوری ۱۹۸۴ ایک صاحب سے بات ہو رہی تھی میں نے کہا۔ آدمی جہاں مرے گا وہیں وہ اٹھے گا۔ انھوں نے کہا اس کا کیا مطلب۔ میں نے کہا کہ میری مراد جسم کے اٹھنے سے نہیں ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا خاتمہ جس شعوری حیثیت پر ہوگا اسی شعوری حیثیت پر وہ آخرت میں اپنے آپ کو پائے گا۔ ایک آدمی دنیا میں کبراور حسد اور تعصب کے جذبات میں جی رہا تھا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو آخرت میں بھی وہ اپنے انہیں جذبات کے ساتھ اٹھے گا۔ مگر وہاں چوں کہ وہ حالات نہ ہوں گے جو کسی آدمی کے لئے کبر اور حسد اور تعصب کا سامان فراہم کرتے ہیں اس لئے وہاں ایسا آدمی اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا جیسے کوئی مچھلی پانی سے نکال کر خشکی میں ڈال دی جائے۔ دنیا میں وہ جس غذا پر جی رہا تھا وہاں وہ غذا اس کے لئے موجود نہ ہوگی اس لئے وہاں کے ماحول میں وہ بے غذا ہو کر رہ جائے گا۔ اسی طرح ایک شخص نے اس میں کمال پیدا کیا کہ وہ حقیقت واقع کے خلاف بولے اور اس کی بنیاد پر بڑائی حاصل کرے۔ دنیا میں بظاہر وہ کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ یہاں اس کو اپنے موافق الفاظ مل جاتے ہیں۔ مگر آخرت میں اس کی یہ صلاحیت بالکل بے قیمت ہو جاتے گی۔ آخرت ایک ایسا عالم ہے جہاں کوئی ایسی ہی بات الفاظ میں ڈھل سکے گی جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ اب جو لوگ حقیقت واقعہ کے خلاف بولنے والے بن کر مریں وہ آخرت میں اس حال میں اٹھیں گے کہ وہ بولنا چاہیں گے مگر انہیں الفاظ نہ ملیں گے کہ وہ بولیں۔ وہاں وہ اسی طرح بے زبان ہو جائیں گے جیسے کوئی اردو داں روسی زبان بولنے والوں کے درمیان زبان رکھتے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page