Urdu book · ڈائری

ڈائری

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

بے زبان ہو جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں طبیعی سائنس کا اثر تمام علوم پر پڑتا ہے۔ حتی کہ اب انسانی معاملات کا مطالعہ بھی انہیں اصطلاحوں میں کیا جانے لگا ہے جو جامد سائنسوں کے لئے مستعمل ہیں۔ مثلاً اکانمک تھیوری موجودہ زمانہ میں دو بڑی شاخوں میں تقسیم کی جاتی ہے: ۱۔ اکانمک اسٹیٹکس (s. ۲۔ اکانمک ڈائنینکس (Economic dianames) اسٹیٹکس اور ڈائنینکس دونوں غیر حیاتیاتی الفاظ ہیں۔ یہ مکنکس سے لئے گئے ہیں۔ آگسٹ کامٹے نے سب سے پہلے یہ دونوں الفاظ سوشل سائنسز میں استعمال کئے۔ اس کے بعد جان اسٹورات مل نے ان کو اکانکس میں استعمال کیا۔ ۱۹۲۸ سے یہ الفاظ زیادہ واضح طور پر استعمال ہونے لگے جب کہ راگنر فریش (Ragnar Frisch) نے ان کی سائنسی تشریح کی۔ اصطلاحات کا یہ استعمال اس مفروضہ پر ہے کہ سماجی اور معاشی علوم بھی اسی طرح متعین قوانین کے پابند ہیں جس طرح جامد مادی علوم۔ مگر اس کی حقیقت ایک مفروضہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک منفرد مخلوق ہے اور انسان کے معاملات پر منفر د انداز ہی میں غور کیا جا سکتا ہے۔ ۱۲ جنوری ۱۹۸۳ اچاریہ کرپلانی کے بڑے بھائی نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ وہ شیخ عبد الرحیم سندھی کے نام سے مشہور ہوئے۔ انھوں نے انگریزوں کے خلاف تحریک مجاہدین میں کافی حصہ لیا۔ اسی طرح مولانا عبیداللہ سندھی ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے دیوبند میں تعلیم پائی۔ اس زمانہ میں دیوبند میں سیاست کا زور تھا چنانچہ وہ شیخ الہند کی تحریک میں شامل ہو کر انگریزوں کے خلاف سیاسی جہاد میں زبردست کام کرتے رہے۔ اس طرح کے بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں اسلام قبول کیا۔ وہ غیر مسلموں میں دعوتی کام کے لئے بے حد موزوں ہو سکتے تھے۔ مگر چوں کہ مسلمان خود غیر مسلموں میں دعوتی کام سے بہت دور تھے اس لئے یہ نو مسلم بھی اسی سیاسی کام میں لگ گئے جس میں مسلم قائدین نے اپنے آپ کو مصروف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page